السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4186. -- باب:: من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه.
-- باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21369
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ قَالُوا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي مَمْلُوكٍ فَأَعْتَقَهُ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ فِي ثَمَنِ رَقَبَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ". ⦗٤٧٥⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں: ”جس کا غلام میں حصہ ہو اس نے آزاد کر دیا تو باقی جانوں کا آزاد کرنا اس پر لازم ہے، اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21369]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21370
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ وَغَيْرِهِ.
سعید رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو باقی ماندہ کو بھی آزاد کرنا اس پر لازم ہے، اگر اس کے پاس مال ہو۔ اگر مال نہ ہو تو عدل والی قیمت مقرر کی جائے اور باقی حصہ کے لیے غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21370]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21371
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ؟ قَالَ:" قَدْ عَتَقَ الْعَبْدُ، يُقَوَّمُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک غلام کے بارے میں سوال ہوا جس کا ایک حصہ آزاد کر دیا گیا، فرمایا: ”غلام تو آزاد ہے، لیکن اس حصہ والے پر قیمت ڈال دی جائے۔ اگر مال دار ہو تو ٹھیک، وگرنہ غلام سے محنت کروائی جائے لیکن مشقت نہ ڈالی جائے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21371]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21372
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ أَعْتَقَ مِنْ مَالِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَقَالَا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رواه الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، وَمُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، ذَكَرُوا فِيهِ الِاسْتِسْعَاءَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ، وَاسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَتِهِمْ، وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فَإِنَّهُ ضَعَّفَ أَمْرَ السِّعَايَةِ فِيهِ بِوُجُوهٍ، مِنْهَا: أَنَّ شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ، وَهِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ رَوَيَا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ قَتَادَةَ لَيْسَ فِيهِ اسْتِسْعَاءٌ، وَهُمَا أَحْفَظُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ قَدَّمْنَا رِوَايَتَهُمَا..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس مال بھی موجود ہو تو وہ مکمل آزاد کروائے، اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔“
حجاج بن حجاج، ابان بن یزید عطار اور موسیٰ بن خلف عمی نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کا ذکر حدیث میں مدرج کر دیا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں سعایہ کے معاملے کو کئی وجوہ سے ضعیف قرار دیا ہے، ان میں سے ایک یہ کہ شعبہ بن حجاج اور ہشام دستوائی نے یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے اور اس میں استسعاء کا ذکر نہیں، اور وہ دونوں زیادہ حافظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21372]
حجاج بن حجاج، ابان بن یزید عطار اور موسیٰ بن خلف عمی نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کا ذکر حدیث میں مدرج کر دیا ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس میں سعایہ کے معاملے کو کئی وجوہ سے ضعیف قرار دیا ہے، ان میں سے ایک یہ کہ شعبہ بن حجاج اور ہشام دستوائی نے یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے اور اس میں استسعاء کا ذکر نہیں، اور وہ دونوں زیادہ حافظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21372]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21373
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ: شُعْبَةُ وَهِشَامٌ أَحْفَظُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِيهِ الِاسْتِسْعَاءَ. وَمِنْهَا: أَنَّ ⦗٤٧٦⦘ الشَّافِعِيَّ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ النَّظَرِ وَالتَّدَبُّرِ مِنْهُمْ وَالْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُ: لَوْ كَانَ حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فِي الِاسْتِسْعَاءِ مُنْفَرِدًا لَا يُخَالِفُهُ غَيْرُهُ مَا كَانَ ثَابِتًا قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَعَلَّهُ إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ حَدِيثَ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُقَالُ إِنَّهُ مِنْ كِتَابٍ، وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَرَأَ مَا كَتَبَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَلَيْسَ فِيهِ مَا يُوهِنُ حَدِيثَهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنَّهُ إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ سَعِيدًا يَنْفَرِدُ بِهِ، وَالْحُفَّاظُ يَتَوَقَّفُونَ فِي إِثْبَاتِ مَا يَنْفَرِدُ بِهِ سَعِيدٌ لِاخْتِلَاطِهِ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَقَدْ وَافَقَهُ غَيْرُهُ فِي رِوَايَةِ الِاسْتِسْعَاءِ. أَوْ قَالَ ذَلِكَ لِأَنَّ سَنَدَهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ، وَأَكْثَرَهُمْ رَوَوْهُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَشِيرٍ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ هِشَامٍ، وَقِيلَ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرٍ، وَقِيلَ: عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَكُلُّ هَذَا وَهْمٌ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْأَكْثَرِ، وَالَّذِي يُوهِنُ أَمْرَ السِّعَايَةِ فِيهِ: رِوَايَةُ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، حَيْثُ جَعَلَ الِاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفَصَلَهُ مِنْ كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو الحسن دارقطنی حافظ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قتادہ سے روایت کرنے والوں میں شعبہ اور ہشام سب سے زیادہ حافظ ہیں، اور ان دونوں نے اس میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کا ذکر نہیں کیا۔
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان میں سے بعض اہل نظر و تدبر اور علم حدیث رکھنے والوں کو یہ کہتے سنا: اگر استسعاء کے بارے میں سعید بن ابی عروبہ کی حدیث اکیلی ہوتی اور کوئی دوسرا اس کی مخالفت نہ کرتا تب بھی وہ ثابت نہ ہوتی۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید انہوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کتاب سے ہے، حالانکہ بشیر سے مروی ہے کہ انہوں نے جو لکھا تھا وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پڑھ کر سنایا، لہٰذا اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو ان کی حدیث کو کمزور کرے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہ اس لیے کہا ہو کہ سعید اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں، اور حفاظ سعید کی منفرد روایت کو ثابت ماننے میں توقف کرتے ہیں کیونکہ آخری عمر میں انہیں اختلاط ہو گیا تھا، حالانکہ استسعاء کی روایت میں دوسروں نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔ یا انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ اس کی سند میں اختلاف ہے: اکثر نے اسے قتادہ عن نضر بن انس عن بشیر بن نہیک عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے، معمر اور سعید بن بشیر نے اسے قتادہ عن بشیر روایت کیا ہے اور اس میں نضر بن انس کا ذکر نہیں، اور ہشام سے دو روایتوں میں سے ایک میں بھی اسی طرح ہے، اور کہا گیا: قتادہ عن موسیٰ بن انس عن بشیر، اور کہا گیا: بشیر عن جابر بن عبداللہ۔ یہ سب وہم ہے اور بات اکثر کی معتبر ہے۔ اور جو چیز اس میں سعایہ کے معاملے کو کمزور کرتی ہے وہ ہمام بن یحییٰ کی قتادہ سے روایت ہے، جس میں انہوں نے استسعاء کو قتادہ کا قول قرار دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے الگ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21373]
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ان میں سے بعض اہل نظر و تدبر اور علم حدیث رکھنے والوں کو یہ کہتے سنا: اگر استسعاء کے بارے میں سعید بن ابی عروبہ کی حدیث اکیلی ہوتی اور کوئی دوسرا اس کی مخالفت نہ کرتا تب بھی وہ ثابت نہ ہوتی۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید انہوں نے یہ بات اس لیے کہی کہ بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کتاب سے ہے، حالانکہ بشیر سے مروی ہے کہ انہوں نے جو لکھا تھا وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو پڑھ کر سنایا، لہٰذا اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو ان کی حدیث کو کمزور کرے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ انہوں نے یہ اس لیے کہا ہو کہ سعید اسے بیان کرنے میں منفرد ہیں، اور حفاظ سعید کی منفرد روایت کو ثابت ماننے میں توقف کرتے ہیں کیونکہ آخری عمر میں انہیں اختلاط ہو گیا تھا، حالانکہ استسعاء کی روایت میں دوسروں نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔ یا انہوں نے یہ اس لیے کہا کہ اس کی سند میں اختلاف ہے: اکثر نے اسے قتادہ عن نضر بن انس عن بشیر بن نہیک عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے، معمر اور سعید بن بشیر نے اسے قتادہ عن بشیر روایت کیا ہے اور اس میں نضر بن انس کا ذکر نہیں، اور ہشام سے دو روایتوں میں سے ایک میں بھی اسی طرح ہے، اور کہا گیا: قتادہ عن موسیٰ بن انس عن بشیر، اور کہا گیا: بشیر عن جابر بن عبداللہ۔ یہ سب وہم ہے اور بات اکثر کی معتبر ہے۔ اور جو چیز اس میں سعایہ کے معاملے کو کمزور کرتی ہے وہ ہمام بن یحییٰ کی قتادہ سے روایت ہے، جس میں انہوں نے استسعاء کو قتادہ کا قول قرار دیا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے الگ کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21373]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21374
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي كِتَابِ مَعْرِفَةِ الْحَدِيثِ، قَالَ: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَغَرَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَنَهُ. قَالَ هَمَّامٌ: فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر قیمت کی چٹی ڈال دی۔
قتادہ کہتے ہیں: اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروا لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21374]
قتادہ کہتے ہیں: اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غلام سے محنت کروا لیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21374]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله بواحد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21375
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي أَبِي ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ.. قَالَ قَتَادَةُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ..
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی آزادی کو جائز قرار دیا اور اس کی قیمت کی چٹی اس پر ڈال دی۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو محنت کروا لیں لیکن مشقت نہ ڈالیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21375]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21376
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَلِيٌّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ يَقُولُ: مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ ضَبَطَهُ وَفَصَلَ بَيْنَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبِ الْخِلَافِيَّاتِ قَالَ: هَذَا الْكَلَامُ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ، لَيْسَ مِنْ مَتْنِ الْحَدِيثِ. ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْمُقْرِيِّ، عَنْ هَمَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: فَقَدْ أَخْبَرَ هَمَّامٌ أَنَّ ذِكْرَ السِّعَايَةِ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَأَلْحَقَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ الَّذِي مَيَّزَهُ هَمَّامٌ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، فَجَعَلَهُ مُتَّصِلًا بِالْحَدِيثِ..
نیشاپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام نے کیا ہی خوب روایت کی ہے، انہوں نے اسے ٹھیک ٹھیک یاد رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق کر دیا۔ اور ابو سلیمان خطابی سے جو مجھے پہنچا ہے، وہ حسن بن یحییٰ سے اور وہ ابن المنذر صاحب الخلافیات سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: یہ بات قتادہ کے فتویٰ میں سے ہے، حدیث کے متن کا حصہ نہیں۔ پھر انہوں نے علی بن حسن عن المقری عن ہمام کی حدیث ذکر کی، پھر کہا: ہمام نے بتا دیا ہے کہ سعایہ کا ذکر قتادہ کا قول ہے، اور سعید بن ابی عروبہ نے اس حصے کو، جسے ہمام نے قتادہ کا قول قرار دے کر الگ کیا تھا، حدیث کے ساتھ ملا کر متصل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21376]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21377
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، ثنا أَبُو مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: أَحَادِيثُ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ، لِأَنَّهُ كَتَبَهَا إِمْلَاءً..
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمام رحمہ اللہ جو احادیث قتادہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں وہ دوسروں کی احادیث سے زیادہ صحیح ہیں؛ کیونکہ انہوں نے انہیں املاء کے وقت تحریر کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21377]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21378
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنَ كَامِلٍ الْقَاضِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ الرَّقَاشِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: شُعْبَةُ أَعْلَمُ النَّاسِ بِحَدِيثِ قَتَادَةَ، مَا سَمِعَ مِنْهُ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وهِشَامٌ أَحْفَظُ، وَسَعِيدٌ أَكْثَرُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَقَدِ اجْتَمَعَ شُعْبَةُ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ وَعِلْمِهِ بِمَا سَمِعَ مِنْ قَتَادَةَ وَمَا لَمْ يَسْمَعْ، وَهِشَامٌ مَعَ فَضْلِ حِفْظِهِ، وَهَمَّامٌ مَعَ صِحَّةِ كِتَابِهِ، وَزِيَادَةِ مَعْرِفَتِهِ بِمَا لَيْسَ مِنَ الْحَدِيثِ عَلَى خِلَافِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَنْ وَافَقَهُ فِي إِدْرَاجِ السِّعَايَةِ فِي الْحَدِيثِ. وَفِي هَذَا مَا يُشْكِلُ فِي ثُبُوتِ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّ فَضْلَ الِاسْتِسْعَاءِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ فُتْيَا قَتَادَةَ مَا:.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ قتادہ کی حدیث کو سب لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ان سے کیا سنا اور کیا نہیں سنا، ہشام زیادہ حافظ ہیں اور سعید سب سے زیادہ روایت کرنے والے ہیں۔
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ اپنے حافظے کی فضیلت اور قتادہ سے جو سنا اور جو نہیں سنا اس کے علم کے ساتھ، ہشام اپنے حافظے کی فضیلت کے ساتھ، اور ہمام اپنی کتاب کی صحت اور جو چیز حدیث کا حصہ نہیں اس کی زیادہ معرفت کے ساتھ، ابن ابی عروبہ اور سعایہ کو حدیث میں مدرج کرنے میں ان کی موافقت کرنے والوں کے خلاف متفق ہیں۔ اور اس میں وہ بات ہے جو اس حدیث میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے ثابت ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ اور جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث میں استسعاء کا اضافی حصہ قتادہ کا فتویٰ ہے وہ درج ذیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21378]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شعبہ اپنے حافظے کی فضیلت اور قتادہ سے جو سنا اور جو نہیں سنا اس کے علم کے ساتھ، ہشام اپنے حافظے کی فضیلت کے ساتھ، اور ہمام اپنی کتاب کی صحت اور جو چیز حدیث کا حصہ نہیں اس کی زیادہ معرفت کے ساتھ، ابن ابی عروبہ اور سعایہ کو حدیث میں مدرج کرنے میں ان کی موافقت کرنے والوں کے خلاف متفق ہیں۔ اور اس میں وہ بات ہے جو اس حدیث میں استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے ثابت ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ اور جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس حدیث میں استسعاء کا اضافی حصہ قتادہ کا فتویٰ ہے وہ درج ذیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21378]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح