السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4186. -- باب:: من قال في المعسر: يستسعى العبد في نصيب صاحبه غير مشقوق عليه.
-- باب: جس نے تنگ دست کے بارے میں کہا: غلام اپنے (دوسرے) مالک کے حصے کی ادائیگی کے لیے محنت مزدوری کرے گا بشرطیکہ اس پر کوئی مشقت نہ ڈالی جائے۔
حدیث نمبر: 21379
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدٍ بَيْنَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ، كَاتَبَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَعْتَقَ الْآخَرُ، وَأَمْسَكَ الثَّالِثُ؟ قَالَ: ذُكِرَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِهَذَا الَّذِي أَمْسَكَ نَصِيبَهُ عَلَى الْمُعْتَقِ:" إِنْ كَانَ ذَا يَسَارٍ عَنْ حَظِّهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْمَمْلُوكُ فِي الثُّلُثِ مِنْ قِيمَتِهِ، وَالْوَلَاءُ بَيْنَ الْمُعْتَقِ وَالْمُكَاتَبِ، لِلْمُعْتِقِ الثُّلُثَانِ، وَلِلْمُكَاتِبِ الثُّلُثُ". وَمِنْهَا أَنْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قِيلَ لِمَنْ حَضَرَ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ: لَوِ اخْتَلَفَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ، وَهَذَا الْإِسْنَادُ أَيُّهُمَا كَانَ أَثْبَتَ؟ قَالَ: نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قُلْتُ: وَعَلَيْنَا أَنْ نَصِيرَ إِلَى الْأَثْبَتِ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: مَعَ نَافِعٍ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِإِبْطَالِ الِاسْتِسْعَاءِ..
عقبہ بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے تین آدمیوں کے مشترک غلام کے بارے میں سوال کیا گیا: ایک نے اسے مکاتب کر لیا، دوسرے نے آزاد کر دیا اور تیسرے نے اپنا حصہ باقی رکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ سے ذکر کیا گیا کہ انہوں نے کہا: جس نے اپنا حصہ روکا تھا، اس کے حصے کی قیمت آزاد کرنے والے پر ہے اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ مال دار نہیں تو ثلث قیمت کی مزدوری کروا لیں اور ولاء آزاد کیے ہوئے اور مکاتب کے درمیان ہے، آزاد کرنے والے کو دو تہائی اور مکاتب کے لیے ایک تہائی ثلث ہو گی۔
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہاں موجود اہل حدیث سے پوچھا گیا: اگر نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند اکیلی اس سند کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کون سی زیادہ ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: تو کیا ہم پر لازم ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ ثابت کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع کے ساتھ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو استسعاء کو باطل کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21379]
اور ان وجوہ میں سے ایک یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: وہاں موجود اہل حدیث سے پوچھا گیا: اگر نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند اکیلی اس سند کے خلاف ہو تو ان دونوں میں سے کون سی زیادہ ثابت ہے؟ انہوں نے کہا: نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: تو کیا ہم پر لازم ہے کہ دونوں حدیثوں میں سے زیادہ ثابت کی طرف رجوع کریں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع کے ساتھ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے جو استسعاء کو باطل کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21379]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21380
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: أَصَحُّ الْأَسَانِيدِ كُلِّهَا: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ..
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمام اسانید میں سب سے صحیح سند: مالک، عن نافع، عن ابن عمر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21380]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21381
وَأَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الصُّوفِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيَّ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ أَصَحِّ الْأَسَانِيدِ فَقَالَ: مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ابو العباس محمد بن اسحاق ثقفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے سب سے صحیح سند کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مالک، عن نافع، عن ابن عمر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21381]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21382
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ مِنْهُمْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَأَعْتَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَسْعَى فِي الثُّلُثَيْنِ.. فَقَدْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فَقَالَ مَنْ حَضَرَهُ: هُوَ مُرْسَلٌ، وَلَوْ كَانَ مَوْصُولًا كَانَ عَنْ رَجُلٍ لَمْ يُسَمَّ لَا يُعْرَفُ وَلَمْ يَثْبُتْ حَدِيثُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَارَضَنَا مِنْهُمْ مُعَارِضٌ بِحَدِيثٍ آخَرَ فِي الِاسْتِسْعَاءِ، فَقَطَعَهُ عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَقَالَ: لَا يَذْكُرُ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ يَعْرِفُ الْحَدِيثَ لِضَعْفِهِ..
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ قبیلے کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت غلام آزاد کر دیا، اس کے پاس اور مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تیسرا حصہ آزاد کر دیا اور حکم دیا کہ ”باقی دو ثلث میں غلام سے محنت لی جائے۔“
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو ان کے پاس موجود لوگوں نے کہا: یہ مرسل ہے، اور اگر موصول بھی ہو تو ایسے آدمی سے ہے جس کا نام نہیں لیا گیا، وہ معروف نہیں اور اس کی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ایک معترض نے استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے بارے میں ایک اور حدیث سے ہم پر اعتراض کیا تو اس کے بعض ساتھیوں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: حدیث کو جاننے والا کوئی شخص اس جیسی حدیث اس کے ضعف کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21382]
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے ذکر کی گئی تو ان کے پاس موجود لوگوں نے کہا: یہ مرسل ہے، اور اگر موصول بھی ہو تو ایسے آدمی سے ہے جس کا نام نہیں لیا گیا، وہ معروف نہیں اور اس کی حدیث ثابت نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ان میں سے ایک معترض نے استسعاء (غلام سے محنت کروانے) کے بارے میں ایک اور حدیث سے ہم پر اعتراض کیا تو اس کے بعض ساتھیوں نے اس کی بات کاٹ دی اور کہا: حدیث کو جاننے والا کوئی شخص اس جیسی حدیث اس کے ضعف کی وجہ سے ذکر نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21382]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21383
أَخْبَرَنَا بِجَمِيعِ هَذَا الْكَلَامِ وَمَا نَقَلْتُهُ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ كَلَامِهِ: أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ، وَلَا أَدْرِي أِيَّ حَدِيثٍ عُورِضَ بِهِ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنی سند سے) یہ سارا کلام ہمیں بیان کیا، اور (امام بیہقی رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کون سی حدیث اس کے مقابل پیش کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21383]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21384
وَلَعَلَّهُ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا ⦗٤٧٩⦘ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ أَعْتَقَهُ مَوْلَاهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْعَى فِي الدَّيْنِ.. وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
ابو یحییٰ اعرج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو اس کا مالک موت کے وقت آزاد کر دے اور اس کا مال بھی نہ ہو، اس پر قرض بھی ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض کے لیے محنت کروائی جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے، اور اس کا راوی حجاج بن ارطاۃ ہے جو قابل حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21384]
یہ روایت منقطع ہے، اور اس کا راوی حجاج بن ارطاۃ ہے جو قابل حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21384]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21385
أَوْ عُورِضَ بِمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ:" إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّجُلِ فَهُوَ ضَامِنٌ إِنْ كَانَ مُوسِرًا، وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا سَعَى بِالْعَبْدِ صَاحِبُهُ فِي نِصْفِ قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ" وَهَذَا أَيْضًا ضَعِيفٌ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي السِّعَايَةِ، وَهُوَ مُنْكَرٌ بِمَرَّةٍ..
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیس صحابہ رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے: اگر ایک آدمی غلام آزاد کر دے جو دو کا مشترک تھا تو وہ (آزاد کرنے والا) ضامن ہے، اگر وہ مال دار ہے۔ اگر وہ تنگ دست ہے تو پھر ان سے باقی قیمت میں محنت کروائی جائے، لیکن مشقت نہ ڈالی جائے۔
یہ روایت بھی ضعیف ہے، حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔ اور حجاج بن ارطاۃ سے نافع عن ابن عمر کی سند سے بھی سعایہ کے بارے میں روایت کی گئی ہے، اور وہ سخت منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21385]
یہ روایت بھی ضعیف ہے، حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔ اور حجاج بن ارطاۃ سے نافع عن ابن عمر کی سند سے بھی سعایہ کے بارے میں روایت کی گئی ہے، اور وہ سخت منکر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21385]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21386
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: ذَكَرْتُ أَنَا وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ وَخِلَافَهُ عَنِ الثِّقَاتِ وَالْحُفَّاظِ، فَتَذَاكَرْنَا مِنْ هَذَا النَّحْوِ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً، قَالَ: فَذَكَرْنَا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ حَدِيثَ الْحَجَّاجِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ أَنَّ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ إِنْ شَاءَ ضَمِنَ الْمُعْتِقَ الْقِيمَةَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَيْضًا مِنْ أَعْظَمِ الْفِرْيَةِ، كَيْفَ يَكُونُ هَذَا عَلَى مَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرَ، لَمْ يَكُنْ فِي آلِ عُمَرَ أَثْبَتَ مِنْهُ، وَلَا أَحْفَظَ، وَلَا أَوْثَقَ، وَلَا أَشَدَّ تَقَدُّمَةً فِي عِلْمِ الْحَدِيثِ فِي زَمَانِهِ، فَكَانَ يُقَالُ: إِنَّهُ وَاحِدُ دَهْرِهِ فِي الْحِفْظِ، ثُمَّ تَلَاهُ فِي رِوَايَتِهِ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَلَمْ يَكُنْ دُونَهُ فِي الْحِفْظِ، بَلْ هُوَ عِنْدَنَا فِي الْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ مِثْلُهُ، أَوْ أَجْمَعُ مِنْهُ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَحْوَالِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ مِنْ أَثْبَتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَأَصَحِّهِمْ رِوَايَةً، رَوَوْهُ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ⦗٤٨٠⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا أَوْ شِقْصًا فِي عَبْدٍ كُلِّفَ عِتْقَ مَا بَقِيَ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ فَإِنَّهُ يُعْتِقُ مِنَ الْعَبْدِ مَا أَعْتَقَ". قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمْرُ السِّعَايَةِ إِنْ ثَبَتَ فِي حَدِيثِ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ عَلَى الِاخْتِيَارِ مِنْ جِهَةِ الْعَبْدِ، فَإِنَّهُ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، وَفِي الْإِجْبَارِ عَلَيْهِ وَهُوَ يَأْبَاهُ مَشَقَّةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ذَلِكَ بِاخْتِيَارِهِ لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْأَخْبَارِ مُخَالَفَةٌ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدْ تَأَوَّلَهُ بَعْضُ النَّاسِ فَقَالَ: مَعْنَى السِّعَايَةِ أَنْ يُسْتَسْعَى الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ أَنْ يُسْتَخْدَمَ لِمَالِكِهِ، وَلِذَلِكَ قَالَ: غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، أَيْ لَا يُحَمَّلُ مِنَ الْخِدْمَةِ فَوْقَ مَا يَلْزَمُهُ بِحِصَّةِ الرِّقِّ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”جب دو آدمیوں کا غلام ہو، ایک آزاد کر دے تو آزاد کرنے والے کو ضامن بنایا جائے گا اگر وہ مالدار ہو۔ اگر مالدار نہ ہو تو غلام سے مزدوری کروائی جائے۔“
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی بہت بڑے جھوٹ میں سے ہے۔ یہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے جیسے حجاج نے نافع عن ابن عمر سے روایت کیا، حالانکہ اسے عبیداللہ بن عمر نے روایت کیا ہے، آل عمر میں ان سے بڑھ کر کوئی ثابت، حافظ، ثقہ اور اپنے زمانے میں علم حدیث میں آگے نہ تھا، یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ وہ حفظ میں اپنے زمانے میں یکتا ہیں، پھر ان کے بعد مالک بن انس نے اسے روایت کیا اور وہ حفظ میں ان سے کم نہ تھے، بلکہ ہمارے نزدیک حفظ و اتقان میں ان کے برابر یا بہت سے پہلوؤں میں ان سے زیادہ جامع تھے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے روایت کیا جو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ ثابت اور روایت میں سب سے صحیح ہیں۔
(ب) ان سب نے نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غلام کا حصہ آزاد کر دیا اس پر لازم ہے کہ باقی ماندہ بھی آزاد کرے، اگر مالدار ہے؛ اگر مالدار نہیں تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا آزاد کر دیا۔“
فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعایہ کا معاملہ اگر بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ثابت ہو تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کے اختیار پر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ اور اس کے انکار کے باوجود اسے مجبور کرنے میں اس پر بڑی مشقت ہے۔ اور جب یہ اس کے اختیار سے ہو تو اس میں اور باقی روایات میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، وباللہ التوفیق۔ بعض لوگوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سعایہ کا معنی یہ ہے کہ غلام سے اس کے مالک کی خدمت لی جائے، اسی لیے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ یعنی آقا اپنے غلام سے اس کے غلامی والے حصے سے بڑھ کر خدمت نہ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21386]
عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی بہت بڑے جھوٹ میں سے ہے۔ یہ اس طرح کیسے ہو سکتا ہے جیسے حجاج نے نافع عن ابن عمر سے روایت کیا، حالانکہ اسے عبیداللہ بن عمر نے روایت کیا ہے، آل عمر میں ان سے بڑھ کر کوئی ثابت، حافظ، ثقہ اور اپنے زمانے میں علم حدیث میں آگے نہ تھا، یہاں تک کہ کہا جاتا تھا کہ وہ حفظ میں اپنے زمانے میں یکتا ہیں، پھر ان کے بعد مالک بن انس نے اسے روایت کیا اور وہ حفظ میں ان سے کم نہ تھے، بلکہ ہمارے نزدیک حفظ و اتقان میں ان کے برابر یا بہت سے پہلوؤں میں ان سے زیادہ جامع تھے، اور یحییٰ بن سعید انصاری نے بھی اسے روایت کیا جو اہل مدینہ میں سب سے زیادہ ثابت اور روایت میں سب سے صحیح ہیں۔
(ب) ان سب نے نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غلام کا حصہ آزاد کر دیا اس پر لازم ہے کہ باقی ماندہ بھی آزاد کرے، اگر مالدار ہے؛ اگر مالدار نہیں تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا آزاد کر دیا۔“
فقیہ (امام بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعایہ کا معاملہ اگر بشیر بن نہیک کی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ثابت ہو تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غلام کے اختیار پر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ اور اس کے انکار کے باوجود اسے مجبور کرنے میں اس پر بڑی مشقت ہے۔ اور جب یہ اس کے اختیار سے ہو تو اس میں اور باقی روایات میں کوئی اختلاف نہیں رہتا، وباللہ التوفیق۔ بعض لوگوں نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ سعایہ کا معنی یہ ہے کہ غلام سے اس کے مالک کی خدمت لی جائے، اسی لیے فرمایا: ”مشقت نہ ڈالی جائے“ یعنی آقا اپنے غلام سے اس کے غلامی والے حصے سے بڑھ کر خدمت نہ لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21386]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21387
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، عَنِ ابْنِ التِّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ فَلَمْ يَضْمَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِنَّمَا هُوَ بِالتَّاءِ - يَعْنِي: التِّلِبَّ وَكَانَ شُعْبَةُ أَلْثَغَ، لَمْ يُبَيِّنِ التَّاءَ مِنَ الثَّاءِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا لَا يُخَالِفُ مَا مَضَى مِنَ الْأَحَادِيثِ، وَإِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعْسِرِ إِذَا أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ، فَلَا يَضْمَنُ الْبَاقِي، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن ثلب اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ضامن نہیں ٹھہرایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21387]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف