السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4194. -- باب:: ما يستدل به على نسخ آية المعاقدة.
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے آیتِ معاقدہ (معاہدے والی آیت) کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 21453
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: ٣٣] قَالَ:" كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يُوَرِّثُونَ الْأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوْالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ} [النساء: ٣٣] فَنُسِخَتْ، ثُمَّ قَالَ: {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: ٣٣] ، مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَهُمْ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“
جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار نے ان کو اپنا وارث صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی چارے کی وجہ سے بنا دیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [سورة النساء: 33] ”جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں، ہم نے ہر ایک کے حق مقرر کر دیے ہیں“ یہ منسوخ کی گئی، پھر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“ مدد کرنا، نصیحت اور وصیت کرنا اور میراث ختم ہو جائے گی۔
(ب) عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] آدمی دوسرے کا حلیف ہے، دونوں کے درمیان نسبی تعلق بھی نہیں، ایک دوسرے کا وارث ہو تو سورۂ انفال نے اس کو منسوخ کر دیا: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”رشتہ دار خدا کے حکم سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21453]
جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار نے ان کو اپنا وارث صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی چارے کی وجہ سے بنا دیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [سورة النساء: 33] ”جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں، ہم نے ہر ایک کے حق مقرر کر دیے ہیں“ یہ منسوخ کی گئی، پھر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“ مدد کرنا، نصیحت اور وصیت کرنا اور میراث ختم ہو جائے گی۔
(ب) عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] آدمی دوسرے کا حلیف ہے، دونوں کے درمیان نسبی تعلق بھی نہیں، ایک دوسرے کا وارث ہو تو سورۂ انفال نے اس کو منسوخ کر دیا: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”رشتہ دار خدا کے حکم سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21453]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 22922»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21454
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا أَسْلَمَ عَلَى يَدِيَّ، قَالَ:" هُوَ مَوْلَاكَ، فَإِذَا مُتَّ فَأَوْصِ لَهُ" ⦗٥٠٠⦘ هَذَا مُرْسَلٌ، وَفِيهِ تَأْكِيدٌ لِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي نَسْخِ آيَةِ الْمُعَاقَدَةِ فِي الْمِيرَاثِ، وَلَكِنْ يُوصِي لَهُ، وَيُحْسِنُ إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
معاویہ بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: فلاں میرے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا مولیٰ ہے، جب تو مرے تو اس کے لیے وصیت کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَلَاءِ/حدیث: 21454]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف