السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4214. -- باب:: ما جاء في ولد المدبرة من غير سيدها بعد تدبيرها
-- باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21592
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُدَبَّرَةِ:" وَلَدُهَا عَبِيدٌ، كَحَائِطِكَ الَّذِي تَصَدَّقْتَ بِهِ إِذَا مُتَّ، لَكَ ثَمَرُهُ مَا عِشْتَ". وَكَانَ عَطَاءٌ يَقُولُ:" وَكَإِبِلِكَ تَصَدَّقْتَ بِهَا إِذَا مُتَّ، فَلَكَ وَلَدُهَا وَلَبَنُهَا مَا عِشْتَ". وَرُوِّينَاهُ، عَنْ مَكْحُولٍ..
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابو شعثاء رحمہ اللہ مدبرہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی اولاد غلام ہے، اس باغ کی مانند جو آپ نے مرنے کے بعد صدقہ کر دیا، جب تک زندہ رہو تو اس کا پھل ملے گا اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے آپ اونٹ اپنے مرنے کے بعد صدقہ کرتے ہیں، اپنی زندگی میں اس کے بچے اور دودھ آپ حاصل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21593
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا زَاهِرٌ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فَاخْتُصِمَ إِلَيْهِ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ، فَاسْتَشَارَ مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يُبَاعُ أَوْلَادُهَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَتَصَدَّقُ بِالنَّخْلِ، فَيَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَقَالَ آخَرُ قَوْلًا نَقَضًا لِلَّذِي قَالَ ⦗٥٣٣⦘ صَاحِبُهُ، قَالَ: الْمُدَبَّرَةُ يَكُونُ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا، قَدْ يَهْدِي الرَّجُلُ الْبَدَنَةَ فَتُنْتَجُ فَيَنْحَرُ وَلَدَهَا مَعَهَا، قَالَ عِكْرِمَةُ:" فَقَامَ وَلَمْ يَقْضِ فِيهِمْ بِشَيْءٍ". وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَا دَلَّ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ..
عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا تو ان کے پاس مدبرہ کی اولاد کا جھگڑا لایا گیا، تو انہوں نے اپنے اردگرد والوں سے مشورہ کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کی اولاد فروخت کی جائے گی، کیونکہ آدمی کھجور صدقہ کرتا ہے لیکن اس کا پھل کھاتا ہے، اور دوسرے نے اس کی بات کاٹی، کہنے لگا: مدبرہ کی اولاد اپنی ماں کے مرتبہ میں ہے، کبھی کبھی آدمی قربانی کرتا ہے، وہ جننے والی ہوتی ہے تو اس کے بچے بھی ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ کھڑے ہوئے اور کوئی فیصلہ نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21594
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ابْنَةُ عَمٍّ لِي أَعْتَقَتْ جَارِيَتَهَا عَنْ دُبُرٍ، وَلَا مَالَ لَهَا غَيْرُهَا، قَالَ:" لِتَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ:" مَا دَامَتْ حَيَّةً".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے چچا کی بیٹی نے اپنی لونڈی کو اپنی موت کے بعد آزاد قرار دیا (یعنی مدبرہ بنایا)، اس کے پاس دوسرا کوئی مال نہیں تھا۔ فرمایا: وہ اس کے رحم سے حاصل کرے جب تک وہ زندہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21594]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21595
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فِي أَوْلَادِ الْمُدَبَّرَةِ:" إِذَا مَاتَ السَّيِّدُ فَلَا نَرَاهُمْ إِلَّا أَحْرَارًا"، قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: أَوْلَادُ الْمُدَبَّرَةِ عَبِيدٌ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ حُبْلَى يَوْمَ دُبِّرَتْ. قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ أَصْحَابُنَا: فَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ جَعَلَ وَلَدَهَا مِيرَاثًا، وَعَلَّقَ الْقَوْلَ فِيهِ جَابِرٌ، وَصَرَّحَ بِذَلِكَ عَطَاءٌ، وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَبُو الشَّعْثَاءِ..
ابوزبیر نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ مدبرہ کی اولاد کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ سید کی وفات کے بعد وہ آزاد ہیں۔ (ب) عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ کی اولاد غلام ہے، لیکن جس دن اس کو مدبرہ بنایا گیا اس دن وہ حاملہ ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21595]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح