🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

5. بَابُ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ .
اسلام اپنے سے پہلے کے امور پر غالب آجاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 73
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ، وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ، فَجَاءَ يَقُودُ - أَوْ يَسُوقُ - بَعِيرَيْنِ، قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ، فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ، فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ. قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، وَلَا أَبْغَضَ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ، قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ، وَمَا يَجْمَعُ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا، وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي، فَقَالَ: أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
نعیم بن قعنب ریاحی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آیا، تو وہ مجھے نہیں ملے، میں نے ایک خاتون کو دیکھا، تو اس سے دریافت کیا: تو اس خاتون نے بتایا: وہ اپنی زمین پر گئے ہوئے ہیں، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ دو اونٹوں کو ہانک کر لاتے ہوئے تشریف لے آئے، اونٹ آگے پیچھے تھے اور اُن میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک مشکیزہ تھا، انہوں نے دونوں مشکیزے رکھ دیئے، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر غفاری! مجھے دنیا میں سب سے زیادہ آپ سے ملاقات پسند ہے، اور آپ سے ملاقات سب سے زیادہ ناپسند بھی ہے، انہوں نے فرمایا: کیا کہہ رہے ہو بھئی؟ یہ دونوں صورتیں کیسے جمع ہو سکتی ہیں؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ دفن کر دیا تھا، تو میری یہ خواہش تھی کہ میں آپ سے ملوں اور آپ مجھے بتائیں کہ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ اور مجھے آپ سے ملتے ہوئے یہ اندیشہ بھی تھا، کہ کہیں آپ مجھے یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا زمانہ جاہلیت میں ایسا ہوا تھا؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو انہوں نے فرمایا: تم نے پہلے جو کچھ کیا، اللہ تعالیٰ اُس کے حوالے سے درگزر کرے۔
(علامہ ہیشمی بیان کرتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ مکمل روایت آگے چل کر، خواتین کے ساتھ طرز سلوک سے متعلق باب میں آئے گی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 55»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 74
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَجِلُّوا اللَّهَ يَغْفِرْ لَكُمْ". قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ: يَعْنِي: أَسْلِمُوا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْعَذْرَاءِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو! وہ تمہاری مغفرت کر دے گا۔
ابن ثوبان کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ اسلام قبول کرو۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوعذراء ہے جو مجہول ہے [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى زوائد المسند 56»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 75
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُفَيْلٍ قَالَ: جَاءَ شَابٌّ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَدَعْ سَيِّئَةً إِلَّا عَمِلَهَا، وَلَا خَطِيئَةً إِلَّا رَكِبَهَا، وَلَا أَشْرَفَ لَهُ سَهْمٌ [ فَمَا فَوْقَهُ ] إِلَّا اقْتَطَعَهُ بِيَمِينِهِ، وَمَنْ لَوْ قُسِّمَتْ خَطَايَاهُ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَغَمَرَتْهُمْ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَسْلَمْتَ؟" - أَوْ" أَنْتَ مُسْلِمٌ؟" - قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ! فَقَالَ:" اذْهَبْ، فَقَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكَ حَسَنَاتٍ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟ قَالَ:" وَغَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ" ثَلَاثًا، فَوَلَّى الشَّابُّ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي أَوْ خَفِيَ عَنِّي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتُ يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ.
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک نوجوان آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اس نے بلند آواز میں کہا: یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جس نے ہر برائی پر عمل کیا ہو، ہر خطا کا ارتکاب کیا ہو، جو بھی چیز اس کے سامنے آئی ہو، وہ اس نے ہتھیا لی ہو، جو ایسا شخص ہو کہ اگر اُس کی خطائیں، تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائیں، تو ان سب کو ڈھانپ لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا: کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) کیا تم مسلمان ہو؟ اس نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ! تمہاری برائیاں، نیکیوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں، اس نے عرض کی: میری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کا کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عہد شکنیاں اور زیادتیاں بھی (نیکیوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (راوی بیان کرتے ہیں:) وہ نوجوان مڑ گیا، اور وہ جاتے ہوئے اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ رہا تھا، راوی بیان کرتے ہیں: میں مسلسل اسے تکبیر کہتے ہوئے سنتا رہا، یہاں تک کہ وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) مجھ سے چھپ گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یاسین زیات ہے، جو موضوع روایات نقل کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6361»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 76
وَعَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطْبٍ الْمَمْدُودِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَةً وَلَا دَاجَةً إِلَّا أَتَاهَا فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ:" فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟" قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ [ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ] وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: [ نَعَمْ ] " تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ فَيَجْعَلُهُنَّ اللَّهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ"، قَالَ: وَغَدَرَاتِي وِفَجَرَاتِي؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ أَبِي نَشِيطٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْأَذْكَارِ.
حضرت ابوطویل شطب الحمدود کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جس نے ہر قسم کے گناہوں کا ارتکاب کیا ہو، اُن میں سے کوئی بھی گناہ ترک نہ کیا ہو، اور اس نے ہر قسم کی برائی کا ارتکاب کیا ہو، تو کیا اس شخص کے لیے توبہ کی گنجائش ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے؟ اُن صاحب نے کہا: جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی ایک معبود ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے اب تم نیکیاں کرتے رہنا اور برائیاں چھوڑ دینا، تو اللہ تعالیٰ اُن سب برائیوں کو تمہارے لئے نیکیاں بنا دے گا، اس نے دریافت کیا: میری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کو بھی (اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اُس نے کہا: اللہ اکبر! اُس کے بعد وہ مسلسل تکبیر کہتا رہا، یہاں تک کہ وہ (ہماری نگاہوں سے) اوجھل ہو گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف محمد بن ہارون ابونشیط کا معاملہ مختلف ہیں، ویسے وہ ثقہ ہے۔
(علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: لا الہ الا اللہ کی فضیلت کے بارے میں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اذکار سے متعلق باب میں آگے آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7235»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 77
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: أَقْبَلَ شَيْخٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ، فَهَلْ يُغْفَرُ لِي؟ قَالَ:" أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟". قَالَ: نَعَمْ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ:" فَقَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ مَكْحُولٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، فَلَا أَدْرِي أَسَمِعَ مِنْهُ أَمْ لَا.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک بوڑھا شخص عصا کے سہارے چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اُس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میری کچھ عہد شکنیاں ہیں اور کچھ زیادتیاں ہیں، کیا میری مغفرت ہو جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اس نے جواب دیا: جی ہاں اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں، کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عہد شکنیوں اور زیادتیوں کی مغفرت ہو چکی ہے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، تاہم اسے مکحول نے، سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، مجھے (یعنی علامہ ہیثمی کو) نہیں معلوم کہ مکحول نے، اُن سے سماع کیا ہے یا نہیں؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «مسند احمد 385 اورده المؤلف فى زوائد المسند 18»

الحكم على الحديث: منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 78
وَعَنِ الْجَارُودِيِّ الْعَبْدِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُبَايِعُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: عَلَى أَنِّي إِنْ تَرَكْتُ دِينِي وَدَخَلْتُ فِي دِينِكَ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ فِي الْآخِرَةِ. قَالَ:" نَعَمْ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا جارودی عبدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ آپ کی بیعت کر لوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: میں اپنا دین چھوڑ کر، آپ کے دین میں داخل ہو گیا ہوں، تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے آخرت میں عذاب نہ دے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! (اللہ تعالیٰ تمہیں آخرت میں عذاب نہیں دے گا)۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 914 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 300/2 اورده المؤلف فى المقصد العلى 41»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں