مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ فِي طَالِبِ الْعِلْمِ وَإِظْهَارِ الْبِشْرِ لَهُ .
طالب علم کا بیان اور اس کے لئے خوشخبری کا اظہار
حدیث نمبر: 549
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَا يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ فِيهِ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُحَمِّقَكَ النَّاسُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُحَدِّثُ بِحَدِيثٍ إِلَّا تَبَسَّمَ فِيهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَجْهُولٌ.
سیده ام درداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی بات کرتے تھے، تو اس دوران مسکراتے رہتے تھے، میں نے اُن سے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ آپ کو احمق قرار نہ دیں، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی بات کرتے تھے، تو اس دوران مسکراتے رہتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عمرو ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 549]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عمرو ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 17975 اورده المؤلف فى زوائد المسند 205»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 550
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَّكِئٌ عَلَى بُرْدٍ لَهُ أَحْمَرَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِطَالِبِ الْعِلْمِ، إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ مَحَبَّتِهِمْ لِمَا يَطْلُبُ".
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ، غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ، غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت مسجد میں اپنی سرخ چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم کے طلبگار کو خوش آمدید! علم حاصل کرنے والے کے لیے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور (ان فرشتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے) کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں (طالب علم) جو (علم) طلب کرتا ہے، اُس (علم) سے ان فرشتوں کی محبت کی وجہ سے، وہ ایسا کرتے ہیں“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے، ان صحابی سے ایک روایت نقل کی ہے، جو اس کے علاوہ ہے (لیکن اُس کا بنیادی مضمون یہی ہے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 550]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 550]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 551
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ:" إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكَ وَلَا أَجْفُوكَ، وَأَنْ أُدْنِيكَ وَلَا أُقْصِيَكَ، فَحَقٌّ عَلَيَّ أَنَّ أُعَلِّمَكَ، وَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تَعِيَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَعَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ رَافِضِيٌّ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَعَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ رَافِضِيٌّ.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہیں تعلیم دوں اور تمہارے ساتھ جفا نہ کروں، تمہیں قریب رکھوں، تمہیں دور نہ کروں، تو اب مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں تمہیں تعلیم دوں اور تم پر یہ لازم ہے کہ تم اُسے محفوظ رکھنا“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، جبکہ ایک راوی عباد بن یعقوب، رافضی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 551]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، جبکہ ایک راوی عباد بن یعقوب، رافضی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 551]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 155»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً