مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ فِي طَالِبِ الْعِلْمِ وَإِظْهَارِ الْبِشْرِ لَهُ .
طالب علم کا بیان اور اس کے لئے خوشخبری کا اظہار
حدیث نمبر: 550
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَّكِئٌ عَلَى بُرْدٍ لَهُ أَحْمَرَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا بِطَالِبِ الْعِلْمِ، إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ مَحَبَّتِهِمْ لِمَا يَطْلُبُ".
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ، غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ، غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت مسجد میں اپنی سرخ چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم کے طلبگار کو خوش آمدید! علم حاصل کرنے والے کے لیے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور (ان فرشتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے) کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں (طالب علم) جو (علم) طلب کرتا ہے، اُس (علم) سے ان فرشتوں کی محبت کی وجہ سے، وہ ایسا کرتے ہیں“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے، ان صحابی سے ایک روایت نقل کی ہے، جو اس کے علاوہ ہے (لیکن اُس کا بنیادی مضمون یہی ہے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العلم/حدیث: 550]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب العلم/حدیث: 550]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
Majma al-Zawa'id Hadith 550 in Urdu