مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ الْإِمْسَاكِ عَنْ بَعْضِ الْحَدِيثِ .
کوئی حدیث (بیان کرنے سے) رک جانا
حدیث نمبر: 666
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَدِيثُ الَّذِي تُكْثِرُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَحَبَسَهُمْ بِالْمَدِينَةِ حَتَّى اسْتُشْهِدَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. قُلْتُ: هَذَا أَثَرٌ مُنْقَطِعٌ، وَإِبْرَاهِيمُ وُلِدَ سَنَةَ عِشْرِينَ، وَلَمْ يُدْرِكْ مِنْ حَيَاةِ عُمَرَ إِلَّا ثَلَاثَ سِنِينَ، وَابْنُ مَسْعُودٍ كَانَ بِالْكُوفَةِ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنْ عُمَرَ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي بَابُ التَّثَبُّتِ عَنْ بَعْضِ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. قُلْتُ: هَذَا أَثَرٌ مُنْقَطِعٌ، وَإِبْرَاهِيمُ وُلِدَ سَنَةَ عِشْرِينَ، وَلَمْ يُدْرِكْ مِنْ حَيَاةِ عُمَرَ إِلَّا ثَلَاثَ سِنِينَ، وَابْنُ مَسْعُودٍ كَانَ بِالْكُوفَةِ، وَلَا يَصِحُّ هَذَا عَنْ عُمَرَ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي بَابُ التَّثَبُّتِ عَنْ بَعْضِ الْحَدِيثِ.
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت احادیث کیوں روایت کرتے ہیں؟ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان حضرات کو مدینہ منورہ میں روکے رکھا، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جام شہادت نوش کر لیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ ”منقطع“ روایت ہے، ابراہیم نامی راوی بیس ہجری میں پیدا ہوئے تھے، انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صرف تین سال ملے تھے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ میں رہے ہیں، تو یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر منقول نہیں ہے، میں یہ کہتا ہوں: بعض احادیث کے بارے میں تحقیق کرنے سے متعلق باب آگے آئے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 666]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ ”منقطع“ روایت ہے، ابراہیم نامی راوی بیس ہجری میں پیدا ہوئے تھے، انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی کے صرف تین سال ملے تھے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کوفہ میں رہے ہیں، تو یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر منقول نہیں ہے، میں یہ کہتا ہوں: بعض احادیث کے بارے میں تحقیق کرنے سے متعلق باب آگے آئے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 666]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3449»
الحكم على الحديث: منقطع