مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ مَعْرِفَةِ أَهْلِ الْحَدِيثِ لِصَحِيحِهِ وَضَعِيفِهِ .
علم حدیث کے ماہرین کا صحیح اور ضعیف حدیث کی معرفت رکھنا
حدیث نمبر: 667
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تَعْرِفُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَلِينُ لَهُ أَشْعَارُكُمْ، وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ قَرِيبٌ - فَأَنَا أَوْلَاكُمْ بِهِ، وَإِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِيثَ عَنِّي تُنْكِرُهُ قُلُوبُكُمْ، وَتَنْفِرُ أَشْعَارُكُمْ وَأَبْشَارُكُمْ، وَتَرَوْنَ أَنَّهُ مِنْكُمْ بَعِيدٌ - فَأَنَا أَبْعَدُكُمْ مِنْهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تم میرے حوالے سے کوئی حدیث سنو، جس سے تمہارے دل (یعنی ذہن) مانوس ہوں، جس کے لیے تمہارے بال اور تمہاری جلد نرم ہو جائے اور تم یہ سمجھو کہ وہ بات تم سے قریب ہے، تو اس بات کے حوالے سے میں تم سے زیادہ حق رکھتا ہوؤں گا، اور جب تم میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث سنو، جسے تمہارے دل منکر قرار دیں، تمہارے بال اور تمہاری جلد اُس سے متنفر ہو اور تم یہ سمجھو کہ یہ تم سے بعید ہے، تو اُس بات سے میں تم سب سے زیادہ دور ہوؤں گا۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 667]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 667]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 497/3 اورده المؤلف فى زوائد المستـ 221 اورده المؤلف فى كشف الاستار 187»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 668
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" إِذَا حَدَّثْتُمْ عَنِّي حَدِيثًا، فَوَافَقَ الْحَقَّ - فَأَنَا قُلْتُهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ بِرَازٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہیں میرے حوالے سے کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ حق کے مطابق ہو، تو وہ بات میں نے ہی کہی ہو گی۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 668]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن براز ہے، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 668]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 188»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف