مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابٌ فِي كُتَّابِ الْوَحْيِ .
کاتبین وحی کا بیان
حدیث نمبر: 686
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَكْتَبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأَرْقَمِ، فَكَانَ يَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ، فَبَلَغَ مِنْ أَمَانَتِهِ عِنْدَهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ إِلَى بَعْضِ الْمُلُوكِ، فَيَكْتُبُ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُطَيِّنَهُ، ثُمَّ يَخْتِمُ، لَا يَقْرَأُ لِأَمَانَتِهِ عِنْدَهُ، وَاسْتَكْتَبَ أَيْضًا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَكَانَ يَكْتُبُ [ الْوَحْيَ ] ، وَيَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ أَيْضًا، فَكَانَ إِذَا غَابَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَاحْتَاجَ أَنْ يَكْتُبَ [ إِلَى بَعْضِ أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ وَالْمُلُوكِ، وَيَكْتُبَ ] الِإِنْسَانٍ كِتَابًا يُقَطِّعُهُ - أَمَرَ مَنْ حَضَرَ أَنْ يَكْتُبَ، وَقَدْ كَتَبَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَالْمُغِيَرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَغَيْرُهُمْ مِمَّنْ قَدْ سَمَّى مِنَ الْعَرَبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے تحریر لکھوایا کرتے تھے، بادشاہوں کی طرف بھیجے جانے والے خطوط وہ لکھ کر دیتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہ اتنے قابل اعتماد شمار ہوتے تھے کہ بعض بادشاہوں کو خط اُنہوں نے ازخود لکھ دیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اُس کی سیاہی کو پختہ کر کے اُس پر مہر لگا دی جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو پڑھا نہیں، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قابل اعتماد تھے، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی کتابت کرواتے تھے، وہ وحی بھی نوٹ کرتے تھے اور بادشاہوں کی طرف مکتوب بھی تحریر کرتے تھے، جب کبھی سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ غیر موجود ہوتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (لشکروں کے کسی امیر یا کسی بادشاہ کی طرف) کوئی تحریر بھجوانے کی ضرورت پیش آتی، تو آپ موجود افراد میں سے کسی کو یہ حکم دیتے تھے کہ وہ تحریر کر دے۔ سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا معاویہ بن ابوسفیان، سیدنا خالد بن سعید بن العاص اور دیگر حضرات رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے لیے کتابت کے فرائض سرانجام دیے ہیں (راوی بیان کرتے ہیں:) اُنہوں نے اُن دیگر افراد کے نام بیان کیے تھے، جن کا تعلق عربوں سے ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ، ابن مدینی اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 686]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ، ابن مدینی اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 686]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 47، 48»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف