مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. بَابٌ فِي الْبِرِّ وَالْإِثْمِ .
نیکی اور گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 815
عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟" فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ، فَقَالَ:" الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، وَقَالَ فِي الْبَزَّارِ: الْأَسَدِيُّ عَنْ وَابِصَةَ، وَعَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، وَقَالَ فِي الْبَزَّارِ: الْأَسَدِيُّ عَنْ وَابِصَةَ، وَعَنْهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے آئے ہو؟ تو سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اُس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں آپ کے پاس اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے نہیں آیا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نیکی وہ ہے جس کے لیے تمہیں شرح صدر حاصل ہو، خواہ لوگ اُس کے بارے میں تمہیں جو بھی حکم بیان کرتے ہوں۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ سلمی ہے، امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اسدی نے سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور اس سے معاویہ بن صالح نے روایت نقل کی ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 815]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ سلمی ہے، امام بزار نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اسدی نے سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور اس سے معاویہ بن صالح نے روایت نقل کی ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 147/22، 148 اخرجه الامام احمد فى مسنده 227/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 247 اورده المؤلف فى كشف الاستار 183»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 816
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ، وَقَدْ رَأَيْتُهُ يَعْنِي وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيَّ، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَاهُ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَمْ يَقُلْ حَدَّثَنِي جُلَسَاؤُهُ. قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَفْتُونَهُ، فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ فَقَالُوا: إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَلْتُ: دَعُونِي فَأَدْنُو مِنْهُ ; فَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ، فَقَالَ:" دَعُوا وَابِصَةَ، ادْنُ يَا وَابِصَةُ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" أُخْبِرُكَ أَمْ تَسْأَلَنِي؟" فَقُلْتُ: لَا، بَلْ أَخْبِرْنِي، فَقَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَجَعَلَ أَنَامِلَهُ الثَّلَاثَ يَنْكُثُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَيَقُولُ:" يَا وَابِصَةُ، اسْتَفْتِ نَفْسَكَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَتَرَدَّدَ فِي صَدْرِكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى حَدِيثِهِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
ایوب بن عبداللہ بن مکرز کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: حالانکہ اُنہوں نے ان سے سماع نہیں کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ان کے ساتھیوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے: حالانکہ میں نے اُنہیں دیکھا ہوا ہے، اُن کی مراد سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ تھے عفان نامی راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ حدیث بیان کی اور یہ نہیں کہا: کہ ان کے ساتھیوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں نیکی اور گناہ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کروں گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد کچھ مسلمان موجود تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل دریافت کر رہے تھے، میں انہیں پھلانگ کر آگے آنے لگا، تو لوگوں نے کہا: اے وابصہ! اللہ کے رسول سے پیچھے رہو، میں نے کہا: تم لوگ مجھے اُن کے قریب جانے دو! کیونکہ وہ لوگوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں، اس حوالے سے کہ میں اُن کے قریب جاؤں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وابصہ کو آنے دو! اے وابصہ! تم قریب آ جاؤ! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ، یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی، راوی بیان کرتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گیا، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں دریافت کرنا ہے، اُس کے بارے میں) میں تمہیں بتا دوں، یا تم مجھ سے سوال کرو گے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! بلکہ آپ مجھے بتا دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم مجھ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تین (انگلیوں کی) پوروں کو میرے سینے پر مارا اور ارشاد فرمایا: اے وابصہ! اپنے آپ سے پوچھو! اپنے آپ سے پوچھو! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا: ”نیکی وہ ہے جس سے (آدمی کا) من مطمئن ہو، اور گناہ وہ ہے، جو تمہارے من میں کھٹکے اور تمہارے سینے میں تردد کا باعث بنے، خواہ لوگ تمہیں جو بھی حکم بیان کریں، وہ تمہیں جو بھی کہیں۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عبداللہ بن مکرز ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کی روایت کی متابعت نہیں کی گئی ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 816]
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عبداللہ بن مکرز ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کی روایت کی متابعت نہیں کی گئی ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام أحمد فى مسنده 228/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 148/22 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1583، 1584 أورده المؤلف فى زوائد المسند 248 أورده المؤلف فى المقصد العلى 102»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 817
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي وَمَا يَحْرُمُ عَلَيَّ. قَالَ: فَصَعَّدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَوَّبَ فِي الْبَصَرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَلَمْ يَطْمَئِنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے بتائیے کہ جو چیز میرے لئے حلال ہے اور جو مجھ پر حرام ہے، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غور سے میرا جائزہ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نیکی وہ ہے جس سے من سکون حاصل کرے اور جس سے دل اطمینان حاصل کرے اور گناہ وہ ہے، جس سے من کو سکون نہ ہو، اور دل اُس سے مطمئن نہ ہو، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے (اپنی اپنی تصنیف میں) نقل کی ہے ”صحیح“ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 817]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے (اپنی اپنی تصنیف میں) نقل کی ہے ”صحیح“ میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے، اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 219/22 اورده المؤلف فى زوائد المسند 252»
الحكم على الحديث: إسناده اس
حدیث نمبر: 818
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا الْإِثْمُ؟ قَالَ:" إِذَا جَاءَكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ". قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے من میں کوئی چیز (یعنی الجھن) آ جائے، تو تم اُسے (یعنی اس کام کو) ترک کر دو! اُس نے دریافت کیا: ایمان کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری برائی تمہیں بری لگے اور تمہاری اچھائی تمہیں اچھی لگے، تو تم مؤمن ہو گے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 818]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 251/5252256، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7539 اورده المؤلف فى زوائد المسند 250»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 819
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: الْإِثْمُ حَوَّازُ الْقُلُوبِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: حَوَّازُ الصُّدُورِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: مَا كَانَ مِنْ نَظْرَةٍ فَلِلشَّيْطَانِ فِيهَا مَطْمَعٌ، وَالْإِثْمُ حَوَّازُ الْقُلُوبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كُلَّهُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ فِيهَا ثَلَاثَ لُغَاتٍ: حَوَّازٌ، وَحَوَازٌّ، وَحَزَّازٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ: حَوَّازُ الصُّدُورِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: مَا كَانَ مِنْ نَظْرَةٍ فَلِلشَّيْطَانِ فِيهَا مَطْمَعٌ، وَالْإِثْمُ حَوَّازُ الْقُلُوبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كُلَّهُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ.
قُلْتُ: وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ الْأَثِيرِ فِي النِّهَايَةِ فِيهَا ثَلَاثَ لُغَاتٍ: حَوَّازٌ، وَحَوَازٌّ، وَحَزَّازٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گناہ دل کو پریشانی کا شکار کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سینوں کو پریشانی کا شکار کرنے والا ہے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: جو دیکھنا ہوتا ہے، اُس میں شیطان کو لالچ ہوتا ہے، اور گناہ دلوں کو پریشانی کا شکار کرنے والا ہے۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں، جن کے رجال ثقہ ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ابن اثیر نے کتاب ”النہایہ“ میں تین لغات ذکر کی ہیں: «حَوَاز، وَحَوَازُ، وَحَزَازَ» (حواز کا لغوی معنی وہ امور ہیں، جن سے دل کو الم یعنی الجھن یا تکلیف لاحق ہو)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 819]
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: جو دیکھنا ہوتا ہے، اُس میں شیطان کو لالچ ہوتا ہے، اور گناہ دلوں کو پریشانی کا شکار کرنے والا ہے۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے ایسی اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں، جن کے رجال ثقہ ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ابن اثیر نے کتاب ”النہایہ“ میں تین لغات ذکر کی ہیں: «حَوَاز، وَحَوَازُ، وَحَزَازَ» (حواز کا لغوی معنی وہ امور ہیں، جن سے دل کو الم یعنی الجھن یا تکلیف لاحق ہو)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8748»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن بشواہدہ۔