مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. بَابُ اتِّبَاعِهِ فِي كُلِّ شَيْءٍ .
ہر چیز میں نبی اکرم ﷺ کی پیروی کرنا
حدیث نمبر: 811
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي سَفَرٍ، فَمَرَّ بِمَكَانٍ فَحَادَ عَنْهُ، فَسُئِلَ لِمَ فَعَلْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ هَذَا، فَفَعَلْتُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
مجاہد بیان کرتے ہیں: ایک سفر میں، ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، ایک جگہ سے گزرتے ہوئے وہ راستے سے ذرا ہٹ گئے، اُن سے سوال کیا گیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کرتے ہوئے دیکھا تھا، تو میں نے بھی یہ کر لیا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 811]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 32/2 اورده المؤلف فى زوائد المسند 193 اورده المؤلف فى كشف الاستار 128»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 812
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بِعَرَفَاتٍ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ رَاحَ رُحْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْإِمَامُ فَصَلَّى مَعَهُ الْأُولَى وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِي حَتَّى أَفَاضَ الْإِمَامُ، فَأَفَضْنَا مَعَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَضِيقِ دُونَ الْمَأْزِمَيْنِ فَأَنَاخَ، فَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ غُلَامُهُ الَّذِي يُمْسِكُ رَاحِلَتَهُ: إِنَّهُ لَيْسَ يُرِيدُ الصَّلَاةَ، وَلَكِنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا انْتَهَى إِلَى هَذَا الْمَكَانِ قَضَى حَاجَتَهُ، فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا، تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ امام آیا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُس کی اقتداء میں ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر وہ، میں اور میرے ساتھی ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ امام روانہ ہوا، تو ہم بھی اُن کے ساتھ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ“ ما زمین“ سے پہلے وہ ایک تنگ جگہ کے پاس پہنچے، تو انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا لیا، ہم نے بھی سواری کو بٹھا لیا، ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، اُن کا وہ غلام جو ان کی سواری کو تھامے ہوئے تھا، اُس نے بتایا: اُن کا نماز ادا کرنے کا ارادہ نہیں ہے، بلکہ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں قضائے حاجت کی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ یہاں قضائے حاجت کریں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 812]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 131/2 اورده المؤلف فى زوائد المسند 194»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 813
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي شَجَرَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَيَقِيلُ تَحْتَهَا، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ مکہ اور مدینہ کے درمیان موجود ایک درخت کے پاس آتے تھے اور اس کے نیچے آرام کرتے تھے، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 813]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 129»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 814
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَحْلُولَ الْأَزْرَارِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، قَالَ: يُغْرِبُ وَيُخْطِئُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، قَالَ: يُغْرِبُ وَيُخْطِئُ.
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ اُن کے بٹن کھلے ہوئے تھے (اس عمل کی وجہ بیان کرتے ہوئے) انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ كتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے: یہ غریب روایات نقل کرتا ہے اور غلطی کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 814]
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ كتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات بیان کی ہے: یہ غریب روایات نقل کرتا ہے اور غلطی کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام ابو يعلي فى مسنده 5615 اورده المؤلف فى كشف الاستار 127»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔