مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. بَابٌ فِي عِلْمِ النَّسَبِ .
علم نسب کا بیان
حدیث نمبر: 929
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْبَاطِ، بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْبَاطِ، بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تم لوگ اپنے نسب کا علم حاصل کرو، تاکہ اس کے ذریعے تم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابواسباط بشر بن رافع ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 929]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابواسباط بشر بن رافع ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 929]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 8308»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 930
وَعَنِ الْعَلَاءِ بْنِ خَارِجَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا علاء بن خارجہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ اپنے انساب کا علم حاصل کرو، تاکہ اس کے ذریعے اپنے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو“۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے، یہ پوری روایت صلہ رحمی کرنے سے متعلق باب میں آئے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 930]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 930]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 931
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ: أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْأَمْرِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، مَنْ أَبُونَا؟ قَالَ:" آدَمُ". قَالَ: مَنْ أُمُّنَا؟ قَالَ:" حَوَّاءُ". قَالَ: مَنْ أَبُو الْجِنِّ؟ قَالَ:" إِبْلِيسُ". قَالَ: فَمَنْ أُمُّهُمْ؟ قَالَ:" امْرَأَتُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ، وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ، وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اُنہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کسی سے اس بارے میں سوال نہیں کروں گا، ہمارے باپ (یعنی بنی نوع انسان کے جدامجد) کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام، انہوں نے دریافت کیا: ہماری ماں کون ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدہ حواء رضی اللہ عنہا، انہوں نے دریافت کیا: جنات کا جدامجد کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابلیس، انہوں نے دریافت کیا: اُن کی ماں کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس کی بیوی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 931]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6174»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 932
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَلَدُ نُوحٍ: سَامُ وَحَامُ وَيَافِثُ، فَوَلَدَ سَامُ الْعَرَبَ وَفَارِسَ وَالرُّومَ وَالْخَيْرُ فِيهِمْ، وَوَلَدَ يَافِثُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَالتُّرْكَ وَالصَّقَالِبَةَ وَلَا خَيْرَ فِيهِمْ، وَوَلَدَ حَامُ الْقِبْطَ وَالْبَرْبَرَ وَالسُّودَانَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ عَنْ أَبِيهِ. فَمُحَمَّدٌ: وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَدُوقٌ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ. وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، فَقَالَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ. وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: مُقَارَبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ عَنْ أَبِيهِ. فَمُحَمَّدٌ: وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَدُوقٌ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ. وَيَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، فَقَالَ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ. وَقَالَ الْبُخَارِيُّ: مُقَارَبُ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سیدنا نوح علیہ السلام کی اولاد یہ ہے: سام، حام اور یافث، سام کی اولاد اہل عرب، اہل فارس اور اہل روم ہیں، اور بھلائی ان میں ہے، یافث کی اولاد یاجوج ماجوج، ترک اور صقالبہ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے، جبکہ حام کی اولاد قبطی، بربر اور سیاہ فام لوگ ہیں۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے، جس نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے، محمد نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ابوحاتم کہتے ہیں یہ صدوق ہے، یحیی بن معین اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، یزید بن سنان نامی راوی کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں: اس کا محل صدق ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مقارب الحدیث ہے، یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 932]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے، جس نے اپنے باپ سے یہ روایت نقل کی ہے، محمد نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ابوحاتم کہتے ہیں یہ صدوق ہے، یحیی بن معین اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، یزید بن سنان نامی راوی کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں: اس کا محل صدق ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مقارب الحدیث ہے، یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 932]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 218»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 933
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" وَلَدَ نُوحٌ ثَلَاثَةً: فَسَامُ أَبُو الْعَرَبِ، وَحَامُ أَبُو الْحَبَشَةِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے، سام، عربوں کے جدامجد ہیں، حام، حبشیوں کے جدامجد ہیں اور یافث، رومیوں کے جدامجد ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 933]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 145/18146»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 934
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَعَدُّ بْنُ عَدْنَانَ بْنِ [ أُدِّ بْنِ ] أُدَدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ بَراءِ بْنِ أَعْرَاقِ الثَّرَى". قَالَتْ: ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَهْلَكَ عَادًا وَثَمُودًا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ"، فَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ: مَعَدٌّ مَعَدٌّ، وَعَدْنَانُ عَدْنَانُ، وَأُدَدٌ أُدَدٌ، وَزَيْدُ بْنُ هُمَيْسَعِ، وَبَرَاءٌ: تِبْتٌ، وَأَعْرَاقُ الثَّرَى، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ: عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”معد بن عدنان بن ادّ بن اُد بن زید بن براء بن اعراق الثرى۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو، قوم ثمود کو، اصحاب رس کو اور اُن کے درمیان اور بھی بہت سے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کیا، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: معد، معد اور عدنان، عدنان اور اُدد، ادد اور زید بن ہمیسع اور براء، تبت اور اعراق الثریٰ، اسماعیل بن ابراہیم۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے، جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی اولاد میں سے ہے، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 934]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے، جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی اولاد میں سے ہے، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 934]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 62/2»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، راوی عبد العزیز بن عمران کے جمہور کے نزدیک ضعیف ہونے کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 935
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: اسْتَقَامَ نَسَبُ النَّاسِ إِلَى مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگوں کا نسب معد بن عدنان تک ٹھیک رہتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 935]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 935]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8249»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ؟ أَرْجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ. قَالَ:" بَلْ هُوَ رَجُلٌ، وُلِدَ لَهُ عَشَرَةٌ، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَسَكَنَ الشَّامَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارُ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي سُورَةِ سَبَأٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي سُورَةِ سَبَأٍ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سبا کے بارے میں دریافت کیا: کہ وہ کیا ہے؟ کیا وہ مرد ہے؟ یا عورت ہے؟ یا کوئی جگہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ مرد ہے، جس کے دس بچے ہوئے تھے، جن میں سے چھ یمن میں رہائش پذیر ہوئے اور ان میں سے چار شام میں رہائش پذیر ہوئے، یمن میں رہنے والوں کے نام یہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعریون، انمار اور حمیر عرب سبھی لوگ، شامیوں کے نام یہ ہیں، لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔
یہ روایت امام أحمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یزید بن حصین کی نقل کردہ روایت آگے آئے گی، جو سورہ سہا سے متعلق باب کے ضمن میں آئے گی، اور وہ اس روایت سے زیادہ مستند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 936]
یہ روایت امام أحمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یزید بن حصین کی نقل کردہ روایت آگے آئے گی، جو سورہ سہا سے متعلق باب کے ضمن میں آئے گی، اور وہ اس روایت سے زیادہ مستند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 936]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 316/1 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12992 اورده المؤلف فى زوائد المسند 264»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 937
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ"، فَقُمْتُ فَقَالَ:" اقْعُدْ"، فَصَنَعَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلَّ ذَلِكَ أَقُومُ فَيَقُولُ:" اقْعُدْ"، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قُلْتُ:" مِمَّنْ نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟" قَالَ:" أَنْتُمْ - مَعْشَرَ قُضَاعَةَ - مِنْ حِمْيَرَ". قَالَ عَمْرٌو: فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ عِنْدُهُ طُرُقٌ، فَفِي بَعْضِهَا: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّنْ نَحْنُ؟ قَالَ:" أَنْتُمْ مِنَ الْيَدِ الطَّلِيقَةِ وَاللُّقْمَةِ الْهَنِيَّةِ ؛ مِنْ حِمْيَرَ". وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ عِنْدُهُ طُرُقٌ، فَفِي بَعْضِهَا: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّنْ نَحْنُ؟ قَالَ:" أَنْتُمْ مِنَ الْيَدِ الطَّلِيقَةِ وَاللُّقْمَةِ الْهَنِيَّةِ ؛ مِنْ حِمْيَرَ". وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہاں جو شخص ”معد“ سے تعلق رکھتا ہے، وہ کھڑا ہو جائے، راوی بیان کرتے ہیں: میں کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم بیٹھ جاؤ! ایسا تین مرتبہ ہوا، ہر مرتبہ میں ہی کھڑا ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما دیتے: تم بیٹھ جاؤ! جب تیسری مرتبہ ایسا ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا (نسبی) تعلق کس سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے قضاعہ قبیلے کے افراد! تم لوگ ”حمیر“ سے تعلق رکھتے ہو۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے بیس سال تک یہ حدیث چھپا کے رکھی۔
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ، امام بزار نے (اپنی اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام طبرانی نے اس کے مختلف طرق نقل کئے ہیں، جن میں سے ایک میں یہ الفاظ ہیں: ”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا (نسبی) تعلق کس سے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا تعلق پھیلے ہوئے ہاتھ اور سیر کرنے والے لقمے (شاید اس سے مراد مہمان نواز اور سخی ہونا ہے) ”حمیر“ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 937]
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ، امام بزار نے (اپنی اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام طبرانی نے اس کے مختلف طرق نقل کئے ہیں، جن میں سے ایک میں یہ الفاظ ہیں: ”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا (نسبی) تعلق کس سے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا تعلق پھیلے ہوئے ہاتھ اور سیر کرنے والے لقمے (شاید اس سے مراد مہمان نواز اور سخی ہونا ہے) ”حمیر“ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 937]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 231/4 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1554 اورده المؤلف فى زوائد المسند 265 اورده المؤلف فى كشف الاستار 221 اورده المؤلف فى المقصد العلى 92»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 938
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ أَيْضًا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اجْلِسْ"، فَجَلَسَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ"، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -" اجْلِسْ"، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ كَانَ هَهُنَا مِنْ مَعَدٍّ فَلْيَقُمْ"، فَقَامَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اجْلِسْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِمَّنْ نَحْنُ؟ قَالَ:" أَنْتُمْ مِنْ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرَ، النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ". فَقَالَ عَمْرٌو: فَكَتَمْتُ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى كَانَ أَيَّامُ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَبَعَثَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَلْ لَكَ أَنْ تَرْقَى الْمِنْبَرَ، فَتَذْكُرَ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ، عَلَى أَنْ أُطْعِمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتِي؟ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: نَعَمْ. فَنَادَى بِالصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، وَجَاءَ عَمْرٌو يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ، أَلَا إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ دَعَانِي عَلَى أَنْ أَرْقَى الْمِنْبَرَ، فَأَذْكُرَ أَنَّ قُضَاعَةَ بْنَ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ، أَلَا:
إِنَّا بَنُو الشَّيْخِ الْهَجَّانِ الْأَزْهَرِ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرِ النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ
ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِيهِ عَنْكَ يَا غُدَرُ، ثَلَاثًا، قَالَ: هُوَ مَا رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاتَّبَعَهُ ابْنُهُ زُهَيْرٌ فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَةِ، مَا كَانَ عَلَيْكَ إِذَا أَطَعْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَطْعَمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتَهُ؟ فَأَنْشَأَ يَقُولُ:
لَوْ قَدْ أَطَعْتُكَ يَا زُهَيْرُ كَسَوْتَنِي فِي النَّاسِ ضَاحِيَةً رِدَاءَ شَنَارِ
قَحْطَانُ وَالِدُنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ وَأَبُو خُزَيْمَةَ خِنْدَفُ بْنُ نِزَارِ
أَضَلَالُ لَيْلٍ سَاقِطٍ أَوْرَاقُهُ فِي النَّاسِ أَعْذَرُ أَمْ ضَلَالُ نَهَارِ
أَنَبِيعُ وَالِدَنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ بِأَبِي مَعَاشِرَ غَائِبٍ مُتَوَارِ
تِلْكَ التِّجَارَةُ لَا نَبُوءُ بِمِثْلِهَا ذَهَبٌ يُبَاعُ بِآنِكٍ وَإِبَارِ
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَلْهَاثُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: حَدِيثُهُ عَنْ آبَائِهِ لَا يَصِحُّ. وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ آبَائِهِ.
إِنَّا بَنُو الشَّيْخِ الْهَجَّانِ الْأَزْهَرِ قُضَاعَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِمْيَرِ النَّسَبُ الْمَعْرُوفُ غَيْرُ الْمُنْكَرِ
ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِيهِ عَنْكَ يَا غُدَرُ، ثَلَاثًا، قَالَ: هُوَ مَا رَأَيْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَاتَّبَعَهُ ابْنُهُ زُهَيْرٌ فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَةِ، مَا كَانَ عَلَيْكَ إِذَا أَطَعْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَطْعَمَكَ خَرَاجَ الْعِرَاقَيْنِ وَمِصْرَ حَيَاتَهُ؟ فَأَنْشَأَ يَقُولُ:
لَوْ قَدْ أَطَعْتُكَ يَا زُهَيْرُ كَسَوْتَنِي فِي النَّاسِ ضَاحِيَةً رِدَاءَ شَنَارِ
قَحْطَانُ وَالِدُنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ وَأَبُو خُزَيْمَةَ خِنْدَفُ بْنُ نِزَارِ
أَضَلَالُ لَيْلٍ سَاقِطٍ أَوْرَاقُهُ فِي النَّاسِ أَعْذَرُ أَمْ ضَلَالُ نَهَارِ
أَنَبِيعُ وَالِدَنَا الَّذِي نُدْعَى لَهُ بِأَبِي مَعَاشِرَ غَائِبٍ مُتَوَارِ
تِلْكَ التِّجَارَةُ لَا نَبُوءُ بِمِثْلِهَا ذَهَبٌ يُبَاعُ بِآنِكٍ وَإِبَارِ
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ دَلْهَاثُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ الْأَزْدِيُّ: حَدِيثُهُ عَنْ آبَائِهِ لَا يَصِحُّ. وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ آبَائِهِ.
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: یہاں جو شخص ”معد“ سے تعلق رکھتا ہے وہ کھڑا ہو جائے، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ! وہ بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہاں ”معد“ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے، وہ کھڑا ہو جائے، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ! اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں ”معد“ سے تعلق رکھنے والا جو شخص موجود ہے، وہ کھڑا ہو جائے، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم بیٹھ جاؤ! انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق کس سے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ قضاعہ بن مالک بن حمیر (کی اولاد) سے تعلق رکھتے ہو، جو ایک معروف نسب ہے، منکر نہیں ہے۔ سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ روایت چھپا کے رکھی، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے مجھے پیغام بھیج کر بلایا اور بولے: کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ تم منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا تذکرہ کرو! اس کے بدلے میں، میں تمہیں زندگی بھر عراقین (دو عراق، یعنی کوفہ اور بصرہ) اور مصر کا خراج ادا کرتا رہوں گا، تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے تو یہ اعلان کیا گیا: لوگ جمع ہو جائیں، لوگ جمع ہو گئے، سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آئے اور منبر پر چڑھ گئے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”اے لوگوں کے گروہ! جو شخص مجھے جانتا ہے، وہ تو مجھے جانتا ہی ہے، اور جو مجھے نہیں جانتا، تو میں عمرو بن مرہ جہنی ہوں، معاویہ بن ابوسفیان نے مجھے بلوایا، تاکہ میں منبر پر چڑھ کر قضاعہ بن معد بن عدنان کا ذکر کروں: بے شک ہم چمکدار اور روشن بزرگ کی اولاد ہیں، جو قضاعہ بن مالک بن حمیر ہے، جو ایک معروف نسب ہے اور منکر نہیں ہے۔ پھر وہ منبر سے نیچے آ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے وعدہ خلاف! یہ کیا کیا ہے؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ تو سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہی چیز ہے جو آپ نے ملاحظہ فرمائی ہے، اے امیرالمؤمنین! تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے زہیر ان کے پیچھے گئے اور ان سے کہا: اے ابا جان! آپ پر کوئی حرج نہیں ہو گا، اگر آپ امیر المؤمنین کی بات مان لیں، وہ آپ کو دونوں عراقوں (یعنی کوفہ اور بصرہ) اور مصر کا خراج زندگی بھر دیتے رہیں گے، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے: اے زہیر! اگر میں تمہاری بات مان لوں تو تم نے لوگوں کے درمیان دن دیہاڑے مجھے عار کی چادر اوڑھا دی ہے۔ ہمارا جدامجد قحطان ہے جس کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے۔ اور ابوخزیمہ خندف بن نزار ہے۔ کیا تاریک رات میں لوگوں کے درمیان اپنے پتے گرانے والا زیادہ معذور شمار ہو گا، یا دن میں ایسا کرنے والا (زیادہ معذور شمار ہو گا)۔ جس باپ کے حوالے سے ہمیں بلایا جاتا ہے، کیا ہم اسے مختلف گروہوں کے جدامجد کے عوض میں فروخت کر دیں جو پوشیدہ اور چھپا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا سودا ہو گا، جیسے سونے کو ڈھیلوں اور پتھروں کے عوض میں فروخت کر دیا جائے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دلہاث بن داؤد ہے، ازدی فرماتے ہیں: اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ مستند نہیں ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) یہ حدیث بھی اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 938]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دلہاث بن داؤد ہے، ازدی فرماتے ہیں: اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ مستند نہیں ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) یہ حدیث بھی اس نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 938]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف