🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

111. بَابٌ فِي ابْنِ الْأُخْتِ وَالْحَلِيفِ وَالْمَوْلَى .
بھانجے، حلیف اور آزاد شدہ غلام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 942
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" حَلِيفٌ مِنْهُمْ، وَمَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: حلیف بھی (قوم کے) لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے، آزاد کردہ غلام بھی اُن میں سے ایک ہوتا ہے، قوم کا بھانجا بھی ان کا ایک فرد ہوتا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 942]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 219»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 943
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ غِيَاثُ بْنُ حَرْبٍ، ضَعَّفَهُ الْفَلَّاسُ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: قوم کا بھانجا، ان کا ایک فرد ہوتا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی غیاث بن حرب ہے، جسے فلاس نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 943]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 220»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 944
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَوَالِينَا مِنَّا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ، وَيُقَالُ: مَسْلَمَةُ بْنُ سَالِمٍ، ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ہمارے آزاد کردہ غلام بھی ہمارے فرد ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن سالم ہے، ایک قول کے مطابق اس کا نام مسلمہ بن سالم ہے، امام ابوداؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الأوسط 4549»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 945
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلَيَانِ: حَبَشِيٌّ وَقِبْطِيٌّ، فَاسْتَبَّا يَوْمًا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا حَبَشِيُّ، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا قِبْطِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَقُولَا هَكَذَا، إِنَّمَا أَنْتُمَا رَجُلَانِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو غلام تھے، ایک حبشی تھا اور ایک قبطی تھا، ایک مرتبہ دونوں میں تکرار ہو گئی، تو اُن میں سے ایک نے کہا: اے حبشی! اور دوسرے نے کہا: اے قبطی! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم دونوں اس طرح نہ کہو! تم دونوں ایسے افراد ہو، جو (سیدنا) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خاندان سے تعلق رکھتے ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور اوسط میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8210 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 207/1 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4146»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 946
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمًا لِقُرَيْشٍ:" هَلْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِنْكُمْ؟" قَالُوا: ابْنُ أُخْتِنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ. قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ [ وَحَلِيفُ الْقَوْمِ مِنْهُمْ ] ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ عُتْبَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُتْبَةَ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عُتْبَةَ وَلَا إِبْرَاهِيمَ.
سیدنا عقبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دریافت کیا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد موجود ہے جو تم میں سے نہ ہو؟ اُنہوں نے عرض کی: ہمارا ایک بھانجا عتبہ بن غزوان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قوم کا بھانجا، ان کا ایک فرد ہوتا ہے (اور قوم کا حلیف، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، یہ روایت عتبہ بن ابراہیم بن عتبہ بن غزوان نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں نے کسی کو عتبہ (بن ابراہیم) یا ابراہیم (بن عتبہ بن غزوان) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: «اخرجه الأمام الطبراني فى معجم الكبير 118/17»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 947
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: قوم کا بھانجا اُن کا ایک فرد ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 947]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں