مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. بَابُ التَّارِيخِ .
تاریخ کا بیان
حدیث نمبر: 948
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ التَّارِيخُ فِي السَّنَةِ الَّتِي قَدِمَ فِيهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ، وَفِيهَا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تاریخ (یعنی ہجری تقویم) کا آغاز اس سال سے ہوا، جس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، اُسی سال میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عباد مکی ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 948]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن عباد مکی ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 948]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 949
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَاسْتُنْبِئَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَرَجَ مُهَاجِرًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَتُوُفِّيَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَرَفَعَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ فِيهِ: وَفَتَحَ بَدْرًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) .
وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ فِيهِ: وَفَتَحَ بَدْرًا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) .
وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن پیدا ہوئے، پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی، پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرنے کے لیے مکہ سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، پیر کے دن آپ کا وصال ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود پیر کے دن اٹھایا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں پیر کے دن کامیابی حاصل کی، سورہ مائدہ کی یہ آیت پیر کے دن نازل ہوئی: ”آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا“۔۔۔۔۔۔۔ الخ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں، اور وہ صحیح کے راویوں میں سے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 949]
یہ روایت امام أحمد نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر میں پیر کے دن کامیابی حاصل کی، سورہ مائدہ کی یہ آیت پیر کے دن نازل ہوئی: ”آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا“۔۔۔۔۔۔۔ الخ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے جبکہ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں، اور وہ صحیح کے راویوں میں سے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12974 اورده المؤلف فى زوائد المسند 268»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 950
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَقُتِلَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ بَحْرٍ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولٌ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ برس کی عمر میں ہوا تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال بھی تریسٹھ برس کی عمر میں ہوا، اور جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اُس وقت وہ بھی تریسٹھ برس کے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن بحر ہے امام ذہبی فرماتے ہیں: وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 950]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن بحر ہے امام ذہبی فرماتے ہیں: وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 7153»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 951
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 951]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 8462»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 952
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفِيلِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش عام الفیل میں ہوئی تھی۔
یہ روایت امام بزار نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 952]
یہ روایت امام بزار نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 226»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 953
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: كَمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ؟ قَالَ:" عَشَرَةُ قُرُونٍ". قَالَ: كَمْ بَيْنَ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ:" عَشَرَةُ قُرُونٍ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ:" ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! اُس نے دریافت کیا: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دس صدیوں کا، اُس نے دریافت کیا: سیدنا نوح علیہ السلام اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: دس صدیوں کا، اُس نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین سو پندرہ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 953]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7545 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 403»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 954
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَقَعَدَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهُ:" هَلْ تَعَوَّذْتَ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنِسِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَوَّلُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ:" آدَمُ". قُلْتُ: نَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، مُكَلَّمٌ". قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" نُوحٌ، وَبَيْنَهُمَا عَشَرَةُ آبَاءٍ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ؟ قَالَ:" خَيْرٌ مَفْرُوضٌ، مَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ مِنْهُ". قُلْتُ: فَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ:" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ". قُلْتُ: وَالصِّيَامُ؟ قَالَ:" الصِّيَامُ جُنَّةٌ. قَالَ اللَّهُ: الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَخَلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ". قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ، وَسِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ". قُلْتُ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. قُلْتُ: وَتَقَدَّمَ أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ وَالْبَزَّارَ فِي بَابِ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. قُلْتُ: وَتَقَدَّمَ أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ وَالْبَزَّارَ فِي بَابِ السُّؤَالِ لِلِانْتِفَاعِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ بیٹھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم نے جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے شیاطین کے شر سے پناہ مانگ لی ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام، میں نے دریافت کیا: کیا وہ نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! اُن کے ساتھ کلام کیا گیا تھا، میں نے دریافت کیا: پھر کون (نبی) تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا نوح علیہ السلام، ان دونوں کے درمیان دس پشتوں کا فرق ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے نماز کے بارے میں بتائیے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک بھلائی ہے، جو لازم قرار دی گئی ہے، جو شخص چاہے وہ اسے زیادہ حاصل کر سکتا ہے، میں نے عرض کی: صدقہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کا اجر و ثواب) کئی گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کی: اور روزہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزہ ڈھال ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اُس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے (سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تنگدست شخص کا محنت کر کے (صدقہ کرنا) یا کسی غریب کو پوشیدہ طور پر (صدقہ دینا) میں نے عرض کی: (آزاد کرنے کے لئے) کون سا غلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی قیمت زیادہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ امام أحمد اور امام بزار نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 954]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے نفع حاصل کرنے کے لیے سوال کرنے سے متعلق باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ امام أحمد اور امام بزار نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 4721»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 955
وَعَنْ سَعِيدِ - يَعْنِي ابْنَ يَرْبُوعٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ:" أَنَا أَكْبَرُ أَوْ أَنْتَ؟" فَقُلْتُ: أَنْتَ أَكْبَرُ وَأَخْيَرُ مِنِّي، وَأَنَا أَقْدَمُ سِنًّا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حضرت سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں بڑا ہوں یا تم؟ تو میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور مجھ سے بہتر ہیں، لیکن عمر میری زیادہ ہے۔
یہ روایت امام بزار نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 955]
یہ روایت امام بزار نے (اپنی مسند میں) اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 225»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 956
وَعَنْ دَغْفَلٍ قَالَ: تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
دغفل بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال 65 سال کی عمر میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 956]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراتى فى معجمه الكبير 2 4202 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 1572»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 957
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
حسن بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے (اپنی مسند میں) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 957]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے (اپنی مسند میں) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 266/1 ح 279/1، 2399294/12680 ح 2523312/1 ح 2847 290/1 2640223/1 ح 1945، 359/1 3380 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 2446»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن