🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

62. بَابٌ فِيمَنْ قَبَّلَ أَوْ لَامَسَ .
جو شخص (باوضو حالت میں بیوی کو) بوسہ دے یا چھو لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَاسْتَقْبَلَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَأَكَبَّ عَلَيْهَا فَتَنَاوَلَهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَلَمْ يَنْهَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نماز ادا کرنے کے لیے آنے لگا تھا، اس کی بیوی اس کے سامنے آئی، تو اس نے اس عورت کو پکڑ لیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی، تو آپ نے اسے منع نہیں کیا (یعنی دوبارہ وضو کیے بغیر نماز ادا کرنے، سے منع نہیں کیا)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1279]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1280
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يُحْدِثُ وُضُوءًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَثَبَّتَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے، اور ازسر نو وضو نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، مروان بن معاویہ نے اسے ”ثبت“ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1280]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1281
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَتَوَضَّأُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى وَجَمَاعَةٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (وضو کر لینے کے بعد) اپنی ایک زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے۔ پھر آپ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور ازسر نو وضو نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، جبکہ یحیی اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1281]
تخریج الحدیث: «سنن الدارقطني كتاب الطهارة باب صفة ما ينقض الوضوء وما روى فى الملامسة والقبلة . 442 المعجم الاوسط للطبراني باب العين من اسمه عبد الرحمن 4788»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1282
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: الْمُلَامَسَةُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ، وَإِنَّ مَسَّ الرَّجُلُ جَسَدَ امْرَأَتِهِ بِشَهْوَةٍ فَفِيهِ الْوُضُوءُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ حَمَّادَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ملامسہ“ سے مراد وہ عمل ہے، جو صحبت کرنے کے علاوہ ہو، اگر آدمی اپنی بیوی کے جسم کو شہوت کے ساتھ چھو لیتا ہے، تو اس صورت میں وضو لازم ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، البتہ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ابوسلیمان ہے، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1282]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1283
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُبَاشَرَةِ، وَمِنَ اللَّمْسِ بِيَدِهِ، وَمِنَ الْقُبْلَةِ إِذَا قَبَّلَ امْرَأَتَهُ. وَكَانَ يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ (أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ) : هُوَ الْغَمْزُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مباشرت کے بعد، ہاتھ کے ذریعے چھو لینے کے بعد، یا بوسے کے بعد، (یعنی جب آدمی اپنی بیوی کا بوسہ لے) تو ان تمام صورتوں میں آدمی وضو کرے گا، وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد ”غمز“ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، ابوعبیدہ نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود) سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1283]

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں