🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
62. بَابٌ فِيمَنْ قَبَّلَ أَوْ لَامَسَ .
جو شخص (باوضو حالت میں بیوی کو) بوسہ دے یا چھو لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1280
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يُحْدِثُ وُضُوءًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ الْمَدِينِيِّ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَثَبَّتَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے، اور ازسر نو وضو نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، مروان بن معاویہ نے اسے ”ثبت“ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الطهارة/حدیث: 1280]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف

Majma al-Zawa'id Hadith 1280 in Urdu