🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

79. بَابٌ فِي قَوْلِهِ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ .
نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا بیان: پانی (یعنی منی کے خروج سے) پانی (یعنی غسل لازم) ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1431
عَنْ عِتْبَانَ - أَوِ ابْنِ عِتْبَانَ - الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ مَعَ أَهْلِي، فَلَمَّا سَمِعْتُ صَوْتَكَ أَقْلَعْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ، راوی کو شک ہے، یا شاید یہ لفظ ہے: سیدنا ابن عتبان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنی بیوی کے ساتھ تھا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، تو الگ ہوا، اور غسل کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی، صرف پانی سے لازم ہوتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1431]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1432
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي وَلَمْ أُمْنِ، فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا عَلَيْكَ، الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں پکارا، میں اُس وقت اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر رہا تھا، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا، میں اُٹھا میں نے غسل کیا، (بعد میں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ جب آپ نے مجھے بلایا تھا، اُس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر رہا تھا اور ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا، میں نے غسل کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تم پر لازم نہیں تھا، پانی، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1432]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1433
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا لِرَأْسِكَ؟" قَالَ: دَعَوْتَنِي وَأَنَا مَعَ أَهْلِي، فَخِفْتُ أَنْ أَحْتَبِسَ عَلَيْكَ فَعَجِلْتُ، فَقُمْتُ وَصَبَبْتُ عَلَيَّ الْمَاءَ ثُمَّ خَرَجْتُ، فَقَالَ:" هَلْ كُنْتَ أَنْزَلْتَ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَلَا تَغْتَسِلَنَّ، اغْسِلْ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ; فَإِنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَيْدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَزَيْدٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے دروازے پر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا، وہ شخص اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا، اُس نے بیوی کی قربت میں آپ کو سلام کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سلام کیا، تو اُس شخص نے (سلام کا) جواب دے دیا، لیکن اُٹھا نہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر آنے کا نہیں کہا: گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے، وہ شخص فارغ ہونے سے پہلے اُٹھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتا ہوا آپ کے پیچھے آیا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہ کھڑا ہوا تھا، ہم اس کے پاس اکٹھے ہو گئے، اس نے اپنے گھر کے پاس موجود ایک ندی میں غسل کیا تھا، جب وہ آیا تو وہ غسل کر چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس نے غسل کر لیا ہے، حالانکہ اس پر غسل واجب نہیں ہوا ہے، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معذرت کرنے کے لیے آیا، اس نے آپ کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے غسل کر لیا، حالانکہ تم پر غسل واجب نہیں تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام بزار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ قربت کرے، اور اُسے انزال نہ ہو، تو غسل لازم نہیں ہو گا“ امام بزار کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، امام طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن شعیب کا معاملہ مختلف ہے، میں اُن سے واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1433]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1434
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا حَبَسَكَ؟" قَالَ: كُنْتُ حِينَ أَتَانِي رَسُولُكَ عَلَى الْمَرْأَةِ، فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ:" وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ لَا تَغْتَسِلُ مَا لَمْ تُنْزِلْ". قَالَ: فَكَانَ الْأَنْصَارُ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری شخص کو طلب کرنے کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بلایا، جب وہ انصاری گھر سے باہر آیا، تو اُس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے سر کو کیا ہوا ہے؟ اس نے عرض کی: جب آپ نے مجھے بلایا تھا، اس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ تھا، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میری وجہ سے آپ کو انتظار نہ کرنا پڑے، میں جلدی سے اُٹھا میں نے اپنے اوپر پانی بہایا اور باہر آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہیں انزال ہو گیا تھا؟ اُس نے جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس طرح کرو، تو غسل ہرگز نہ کرو، عورت کا جو مواد تمہیں لگ جاتا ہے، اُس کو دھو لو، اور پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، کیونکہ پانی، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے زید بن سعد کے حوالے سے، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کے حوالے سے، اُن کے والد سے نقل کی ہے، ابوسلمہ نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے، اور زید نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1434]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1435
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ، وَالْأَنْصَارِيُّ عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ الثَّانِيَةَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ وَلَمْ يَقُمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ لَمَّا لَمْ يَأْذَنْ لَهُ. فَقَامَ الْآخَرُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ وَخَرَجَ فِي أَثَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُهُ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، وَاغْتَسَلَ الرَّجُلُ فِي نَهْرٍ إِلَى جَانِبِ دَارِهِ، فَأَقْبَلَ وَقَدِ اغْتَسَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَقَدِ اغْتَسَلَ وَمَا وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ"، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَعْتَذِرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِأَمْرِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اغْتَسَلْتَ وَلَمْ يَجِبْ عَلَيْكَ الْغُسْلُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَفِي الْبَزَّارِ عَنْهُ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَأَقْحَطَ فَلَا غُسْلَ".
وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدَ بْنَ شُعَيْبٍ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلوایا، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کس چیز نے تمہیں روک لیا تھا؟ اس نے بتایا: جب آپ کا پیغام رساں میرے پاس آیا، میں اس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا، میں اُٹھا میں نے غسل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں ہونا تھا، اگر تم غسل نہ بھی کرتے، جب کہ تمہیں انزال نہ ہوا ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو انصار ایسا ہی کرتے ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1435]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1436
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَذَكَرَ كَلَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا أَقْحَطَ أَحَدُكُمْ أَوْ أَكْسَلَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَبَا إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيَّ ; فَإِنَّهُ ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا، اسے آنے میں تاخیر ہو گئی، پھر وہ باہر آیا اور اس نے کلام (یعنی تاخیر کی وجہ کو) ذکر کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی شخص کو انزال نہ ہوا ہو، تو اس پر غسل (لازم) نہیں ہو گا، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں، صرف ابواسرائیل ملائی کا معاملہ مختلف ہے، وہ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف ہے، بعض حضرات نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1436]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1437
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا لَمْ نُنْزِلُ لَمْ نَغْتَسِلْ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا ابْنِ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ يُدَلِّسُ.
عبید بن رفاعہ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے، کہ جب ہمیں انزال نہیں ہوتا تھا، تو ہم غسل بھی نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے، وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1437]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1438
وَعَنْ بَعْضِ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ وَخَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ فَاغْتَسَلْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا عَلَيْكَ، الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ". قَالَ رَافِعٌ: ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغُسْلِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: عَنْ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے، سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا یہ بیان منقول ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں اُس وقت اپنی بیوی کے قریب تھا، میں اُٹھ گیا، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا، میں نے غسل کیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، میں نے آپ کو بتایا کہ جب آپ نے مجھے بلایا تھا، اُس وقت میں اپنی بیوی کے قریب تھا، میں اُٹھ گیا، ابھی مجھے انزال نہیں ہوا تھا، اور میں نے غسل کر لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پر کوئی گناہ نہیں ہونا تھا، کیونکہ پانی، پانی کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی صورتحال میں غسل کرنے کا حکم دیا۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ سہل بن رافع کے حوالے سے، اُن کے والد سے منقول ہے، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1438]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1439
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ - وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ بِرَأْيِهِ فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ. قَالَ: أَعْجِلْ عَلَيَّ بِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ، أَوْ لَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْيِكَ؟! قَالَ: مَا فَعَلْتُ، وَلَكِنْ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: أَيُّ عُمُومَتِكَ؟ قَالَ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو أَيُّوبَ وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ. فَالْتَفَتَ عُمَرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - إِلَيَّ فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا الْغُلَامُ؟ فَقُلْتُ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: سَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِهِ. قَالَ: فَجَمَعَ النَّاسَ وَاتَّفَقَ النَّاسُ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ، إِلَّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَقَالَا: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ أَعْلَمُ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - فَقَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ - رَحِمَهَا اللَّهُ - قَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ. قَالَ: فَتَحَطَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَعْنِي تَغَيَّظَ - ثُمَّ قَالَ: لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ، زَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: ثُمَّ أَفَاضُوا فِي الْعَزْلِ، فَقَالُوا: لَا بَأْسَ، فَسَارَّ رَجُلٌ صَاحِبَهُ فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمُنَاجَاةُ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى. فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّهَا لَا تَكُونُ مَوْءُودَةً حَتَّى تَمُرَّ بِسَبْعِ تَارَاتٍ ; قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ) إِلَى قَوْلِهِ: (فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ) . قَالَ: فَتَفَرَّقُوا عَلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ، جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، جب انہیں یہ بتایا گیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کو یہ فتوی دیتے ہیں، جو اُن کی اپنی رائے کی بنیاد پر ہے کہ جو شخص صحبت کرے اور اسے انزال نہ ہو، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے جلدی سے میرے پاس لاؤ، انہیں لایا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اپنی جان کے دشمن! مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم اللہ کے رسول کی مسجد میں، اپنی رائے کی بنیاد پر لوگوں کو فتوی دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا، میرے چچاؤں نے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے حدیث بیان کی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دریافت کیا: تمہارے کون سے چچا نے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: یہ لڑکا کیا کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایسا کیا کرتے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا؟ تو سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نے یہی کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، تو لوگوں کو اس بات پر اتفاق تھا کہ غسل صرف منی کے خروج کی وجہ سے لازم ہوتا ہے، صرف سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا، ان دونوں حضرات کا یہ کہنا تھا: کہ جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے، تو غسل واجب ہو جاتا ہے، راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امیر المؤمنین! اس مسئلے کے بارے میں سب سے زیادہ علم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے، تو غسل واجب ہو جائے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے غصے کا اظہار کیا، اور ارشاد فرمایا: اب اگر مجھے کسی کے بارے میں یہ پتہ چلا کہ اُس نے ایسا کیا ہے، تو میں اُسے سزا دوں گا۔
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں، صرف یہ ہے کہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے، ویسے وہ ثقہ ہے ”صحیح“ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: پھر ان لوگوں نے غزل کے بارے میں گفتگو شروع کی، تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ایک شخص نے سرگوشی میں اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی بات چیت کی، تو انہوں نے دریافت کیا: یہ سرگوشی میں کیا بات ہو رہی ہے؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا: یہ کہہ رہا ہے: یہ تو چھوٹی قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: زندہ درگور کرنا، یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اُس پر سات مراحل نہیں گزر جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے تخلیق کیا، پھر ہم نے اسے ایک مضبوط جگہ پر نطفہ کی شکل میں رکھ دیا“۔ یہ آیت یہاں تک ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی ذات برکت والی ہے جو سب سے بہترین خالق ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو سب لوگ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے فتوی کے مطابق قائل ہو کر منتشر ہوئے، کہ اس (یعنی عزل کرنے) میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1439]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن لغیرہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1440
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب شرمگاه، شرمگاہ سے مل جائے، تو غسل واجب ہو جاتا ہے“۔ یہ روایات امام بزار نے نقل کی ہیں، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1440]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف، اس کی سند میں ابوبکر بن ابی مریم راوی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں