🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

92. بَابُ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى لِلْمُحْدِثِ .
بے وضو شخص کا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1504
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَالَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَالَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ - يَعْنِي أَنَّهُ تَيَمَّمَ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر پہلے پیشاب کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ نے دیوار پر ہاتھ پھیرا، یعنی تیمم کیا اور پھر اُس کے سلام کا جواب دیا)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1504]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1505
وَعَنِ الْبَرَاءِ - يَعْنِي ابْنَ عَازِبٍ -: أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَبُولُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ حَتَّى فَرَغَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ اُس وقت پیشاب کر رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کا جواب اُس وقت تک نہیں دیا، جب تک آپ فارغ نہیں ہو گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1505]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1506
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سُمْرَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَبُولُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:" وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ الْفَضْلُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اُس وقت پیشاب کر رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، پھر آپ گھر میں تشریف لے گئے، آپ نے وضو کیا، پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا: وعلیکم السلام!
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: فضل بن ابوحسان اسے نقل کرنے میں منفرد ہے (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1506]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1507
وَعَنْ أَبِي سَلَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَالَ ثُمَّ تَلَا آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ - قَالَ هُشَيْمٌ: آيًا مِنَ الْقُرْآنِ - قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ مَاءً.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ابوسلام بیان کرتے ہیں: مجھے اُس شخص نے یہ بات بتائی ہے: جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، کہ آپ نے پیشاب کیا اور پھر پانی استعمال کرنے سے پہلے (یعنی وضو کرنے سے پہلے) آپ نے قرآن کی کچھ آیات کی تلاوت کی، (یہاں ہشیم نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1507]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں