🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

93. بَابُ قِرَاءَةِ الْجُنُبِ .
جنبی شخص کا قرأت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1508
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَقْرَأِ الْقُرْآنَ وَأَنْتَ جُنُبٌ". قُلْتُ لِعَلِيٍّ: إِنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ لَيْسَ الْجَنَابَةَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اُس وقت قرآن کی تلاوت نہ کرنا، جب تم جنبی ہو، میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن کی تلاوت کر لیتے تھے، جبکہ جنابت نہ ہو۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، ان دونوں کی سند میں ایک راوی ابومالک نخعی ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث: «البحر الزخار مسند البزار اول حديث ابي موسيٰ حديث 2675 سنن الدارقطني كتاب الطهارة باب فى النهى للجنب والحائض عن قراءة القرآن 368»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1509
قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ. قَالَ: هَكَذَا لِمَنْ لَيْسَ بِجُنُبٍ، فَأَمَّا الْجُنُبُ فَلَا وَلَا آيَةً.
وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
امام ابویعلیٰ نے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے: وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا اور پھر قرآن کا کچھ حصہ پڑھ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس طرح اب وہ کر سکتا ہے جو جنبی نہ ہو، جہاں تک جنبی کا تعلق ہے، تو وہ (قرآن مجید) نہیں پڑھ سکتا، ایک آیت بھی نہیں۔
اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1509]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1510
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ الْفَغْوَاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَهَرَاقَ الْمَاءَ نُكَلِّمُهُ فَلَا يُكَلِّمُنَا [ وَنُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَلَا يَرُدُّ عَلَيْنَا ] ، حَتَّى يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ فَيَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ. قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُكَلِّمُكَ فَلَا تَكَلُّمُنَا، وَنُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَلَا تَرُدُّ عَلَيْنَا [ قَالَ ] ، حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الرُّخْصَةِ (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ) الْآيَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علقمہ بن فغواء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تھے، تو ہم آپ کے ساتھ بات کر لیتے (یعنی آپ کو کچھ کہہ دیتے) تھے، آپ ہمارے ساتھ بات نہیں کرتے تھے، ہم آپ کو سلام کر لیتے تھے، آپ ہمیں سلام کا جواب نہیں دیتے تھے، یہاں تک کہ آپ گھر تشریف لے گئے، آپ نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کے ساتھ کلام کیا لیکن آپ نے ہمارے ساتھ کام نہیں کیا، ہم نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا، راوی بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ رخصت والی آیت نازل ہو گئی: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1510]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1511
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُقْرِئُ رَجُلًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى شَاطِئِ الْفُرَاتِ بَالَ وَكَفَّ عَنْهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: أَحْدَثْتَ. قَالَ: اقْرَأْ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ، وَجَعَلَ يَفْتَحُ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو قرآن پڑھا رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ دریائے فرات کے کنارے پر پہنچے، تو وہاں انہوں نے پیشاب کیا، وہ شخص اُن سے پیچھے ہٹ گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اُس نے کہا: آپ کا وضو ختم ہو گیا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم تلاوت شروع کرو! اس نے تلاوت شروع کی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کو لقمہ دے دیتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1511]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں