🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

62. بَابٌ فِيمَا يُعَدُّ فَرَطًا أَوْ مُصِيبَةً .
اس چیز کا بیان جسے آگے بھیجی جانے والی چیز یا مصیبت شمار کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4004
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرًا، وَفَتَحَ بَابًا فِي مَرَضِهِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ يُصَلُّونَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَسُرَّ بِذَلِكَ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُصِيبَ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِمْ بِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور دروازہ کھولا یہ آپ کی بیماری کے دوران کی بات ہے آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے۔ آپ اس بات پر خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت کے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم میں سے جس بھی شخص کو میرے بعد کوئی مصیبت لاحق ہو، تو وہ اپنی اس لاحق ہونے والی مصیبت کے وقت میرے حوالے سے مصیبت کے ذریعے خود کو سہارا دے، کیونکہ میری امت کو میرے بعد کوئی ایسی مصیبت لاحق نہیں ہو گی، جو اس مصیبت کی مانند ہو، جو انہیں میرے حوالے سے لاحق ہوئی ہو گی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن جعفر بن نجیح مدنی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4004]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (612)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4005
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْكُمْ فَرَطٌ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا تَصْرِيدًا"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِكُلِّنَا فَرَطٌ؟ قَالَ:" أَوَلَيْسَمِنْ فَرَطِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَفْقِدَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا، البتہ ”تصرید“ (یعنی تھوڑا ہونے) کا معاملہ مختلف ہے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کا بچہ تو فوت نہیں ہوا ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایک یہ چیز آگے نہیں بھیجتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو غیر موجود پاتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4005]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں