مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابٌ فِيمَا يُعَدُّ فَرَطًا أَوْ مُصِيبَةً .
اس چیز کا بیان جسے آگے بھیجی جانے والی چیز یا مصیبت شمار کیا جائے؟
حدیث نمبر: 4005
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْكُمْ فَرَطٌ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا تَصْرِيدًا"، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِكُلِّنَا فَرَطٌ؟ قَالَ:" أَوَلَيْسَمِنْ فَرَطِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَفْقِدَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا، البتہ ”تصرید“ (یعنی تھوڑا ہونے) کا معاملہ مختلف ہے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کا بچہ تو فوت نہیں ہوا ہو گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایک یہ چیز آگے نہیں بھیجتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو غیر موجود پاتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 4005]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الجنائز/حدیث: 4005]
تخریج الحدیث: «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5741»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 4005 in Urdu