مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا لَا زَكَاةَ فِيهِ .
کس چیز میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی؟
حدیث نمبر: 4369
عَنْ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے، اور وہ متروک ہے، ابن عدی نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4369]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے، اور وہ متروک ہے، ابن عدی نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4369]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام البزار فى المسند، (885)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً