🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

9. بَابُ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ .
گھوڑوں، غلاموں اور دیگر چیزوں میں زکوۃ کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4370
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ فِي كُلِّ فَرَسٍ دِينَارٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ، وَغُورَكٌ ; وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: چرنے والے گھوڑوں میں، ہر ایک گھوڑے میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد اور ایک راوی عورک ہے، اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4370]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4371
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ زَكَاةٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میں نے تمہیں گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو (درہم) سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4371]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1136)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4372
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ [ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ] إِلَى عُمَرَ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا خَيْلًا وَرَقِيقًا، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، قَالَ: مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ [ قَبْلِي ] فَأَفْعَلُهُ، وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں: اہل شام سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: ہمیں کچھ اموال ملے ہیں، گھوڑے ہیں اور غلام ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُن میں ہم پر زکوۃ لازم ہو، جو پاکیزگی کا باعث ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھ سے پہلے میرے دونوں آقاؤں نے ایسا نہیں کیا کہ میں ایسا کرتا، پھر انہوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے مشورہ لیا، اُن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اچھا کام ہو گا، اگر یہ ایسا جزیہ نہ ہو، جس کو باقاعدہ مقرر کر دیا جائے اور آپ کے بعد بھی اُسے وصول کیا جائے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے منجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4372]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4373
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ صَدَقَةً.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ وصول نہیں کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے، اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4373]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى المسند (113)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4374
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَدَقَةَ فِي الْكَسْعَةِ، وَالْجَبْهَةِ، وَالنُّخَّةِ".
وَفَسَّرَهُ أَبُو عُمَرَ قَالَ: الْكُسْعَةُ: الْحَمِيرُ. وَالْجَبْهَةُ: الْخَيْلُ. وَالنُّخَّةُ: الْعَبِيدُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کسعہ جبھہ اور نخہ میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔ ابوعمر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا: ہے: کسعہ سے مراد خچر ہے، جبھہ سے مراد گھوڑے ہیں، اور نخہ سے مراد غلام ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4374]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4375
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي الْحَمِيرِ زَكَاةٌ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الشَّاذَّةَ: (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ) ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا خچروں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! البتہ ایک آیت جو جامع و مانع ہے، وہ ہے: جو ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا، وہ اُسے دیکھ لے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے، اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 229/24)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4376
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ لَا نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الرَّقِيقِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم غلاموں کی زکوۃ ادا نہ کریں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4376]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام البزار فى المسند (886)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4377
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِرَقِيقِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ، الَّذِينَ هُمْ تِلَادُهُ وَهُمْ غِلْمَتُهُ لَا يُرِيدُ بَيْعَهُمْ، فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَلَّا نُخْرِجَ عَنْهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا، وَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ عَنِ الَّذِي يُعَدُّ لِلْبَيْعِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ فَقَطْ -، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں آدمی، یا عورت کے غلام کے بارے میں حکم دیتے تھے کہ جو ان کے ذاتی استعمال کے ہوں، اُن کا مقصد انہیں فروخت کرنا نہ ہو، اس کے بارے میں آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم ان کی زکوۃ کے طور پر کوئی چیز ادا نہں کریں گے، آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم ان غلاموں کی زکوۃ ادا کریں گے، جنہیں فروخت کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے ہم صرف اُن غلاموں کی زکوۃ ادا کریں، جنہیں ہم نے فروخت کرنے کے لئے تیار رکھا ہو۔ اس روایت کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4377]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7029)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں