مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي الْأُضْحِيَّةِ .
قربانی کا بیان
حدیث نمبر: 5940
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مِخْنَفٍ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ يَقُولُ:" هَلْ تَعْرِفُونَهَا؟". قَالَ: فَمَا أَدْرِي مَا رَجَعُوا إِلَيْهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ أَنْ يَذْبَحُوا شَاةً فِي كُلِّ رَجَبٍ، وَكُلِّ أَضْحَى شَاةً".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا حبیب بن مخنف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عرفہ کے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ارشاد فرما رہے تھے کیا تم اسے پہچانتے ہو راوی کہتے ہیں: مجھے پتہ نہیں چلا کہ لوگوں نے انہیں کیا جواب دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر گھر والوں پر یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر رجب کے مہینے میں ایک بکری ذبح کریں اور ہر عیدالاضحی کے موقع پر ایک بکری ذبح کریں“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5940]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5940]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5941
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْعَتِيرَةِ، وَكَانَتْ ذَبِيحَةً يَذْبَحُونَهَا فِي رَجَبٍ فَنَهَاهُمْ عَنْهَا وَأَمَرَهُمْ بِالْأُضْحِيَّةِ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ النَّهْيُ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَطْ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ أَيْضًا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ النَّهْيُ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَطْ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ أَيْضًا.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتیرہ سے منع کیا ہے یہ ایک قربانی ہوتی تھی جسے وہ لوگ رجب کے مہینے میں ذبح کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس سے منع کر دیا اور انہیں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرنے کا حکم دیا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان کے حوالے سے ”صحیح“ میں اور دیگر کتابوں میں
یہ روایت منقول ہے، جو صرف عتیرہ کی ممانعت کے بارے میں ہے اس میں اس سیاق کا ذکر نہیں ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5941]
یہ روایت منقول ہے، جو صرف عتیرہ کی ممانعت کے بارے میں ہے اس میں اس سیاق کا ذکر نہیں ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5941]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 5942
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أُسَيْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَمَا يُضَحِّيَانِ مَخَافَةَ يُسْتَنُّ [ بِهِمَا ] فَحَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ أَنْ عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ حَتَّى إِنِّي لَأُضَحِّي عَنْ كُلٍّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے کہ اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ان دونوں کی پیروی نہ شروع ہو جائے لیکن پھر میرے اہل خانہ نے مجھے زیادتی پر مجبور کیا، حالانکہ مجھے سنت کا علم تھا، انہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں ہر ایک فرد کی طرف سے قربانی کروں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5942]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 5942]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3058)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح