🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3. بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا .
اس شخص کا بیان، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6912
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَلَى الْمِنْبِرِ:" لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6912]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6297)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6913
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو جب قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے، جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور وہ اس حدیث کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بزیع ہے وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6913]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (627)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6914
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَتْرُكُهُ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَإِنَّهُ إِنْ حَلَفَ كَاذِبًا" فَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا.
قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْمَنْبِجِيُّ قِيلَ فِي تَرْجَمَتِهِ: لَهُ غَرَائِبُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان اختلاف ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے ایک پر قسم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تو دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اسے حلف اٹھانے کا موقع دے رہے ہیں یہ تو یہ چیز لے جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر اس نے جھوٹا حلف اٹھایا (راوی بیان کرتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید کلمات ارشاد فرمائے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث مذکور ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام منجی ہے اس کے حالات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اس سے عجیب و غریب روایات منقول ہیں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6914]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1676) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (636)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6915
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ عَفَا عَنْهُ أَوْ عَاقَبَهُ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ:" عَفَا عَنْهُ أَوْ عَاقَبَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ: كَذَّابٌ.
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا اگر وہ چاہے گا تو اس سے درگزر کر دے گا اور اگر وہ چاہے گا تو اسے سزا دے گا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہے: اگر وہ چاہے گا تو اس سے درگزر کرے گا اور وہ چاہے گا تو اسے سزا دے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن یحیی بن سعید بن العاص ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں معجم اوسط کی سند میں ایک کذاب راوی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1664) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (644)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6916
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ أَذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ دِيكٍ قَدْ مَزَّقَتْ رِجْلَيْهِ الْأَرْضُ، وَعُنُقُهُ مُنْثَنٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، وَهُوَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ رَبَّنَا. فَيَرُدُّ عَلَيْهِ: مَا عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ حَلَفَ بِي كَاذِبًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اجازت دی کہ میں اس مرغ کے بارے میں بیان کروں جس کی دونوں ٹانگیں زمین میں ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچے جھکی ہوئی ہے اور وہ یہ کہتا ہے: تو ہر عیب سے پاک ہے: اے ہمارے پروردگار! تو کتنی عظمت والا ہے، تو پروردگار اسے یہ جواب دیتا ہے: یہ بات وہ شخص نہیں جانتا جو میرے نام کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6916]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (156/1)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6917
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ شَيْءٌ يَسِيرٌ؟ قَالَ:" وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ.
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے: جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کو واجب کر دیتا ہے، عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ مسواک ہی کیوں نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ ابوسفیان بن جابر بن عتیک کا معاملہ مختلف ہے، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے، اہل صحیح میں سے ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایات نقل کی ہیں، اور کسی نے ان کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6917]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 1784, 1783, 1782)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6918
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْبَرْصَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ، وَهُوَ يَمْشِي بَيْنَ جَمْرَتَيْنِ مِنَ الْجِمَارِ، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا حارث بن برصاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا: آپ اس وقت دو جمرات کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے: جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے مال میں سے کچھ بھی ہتھیا لے گا، اُسے جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3330)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6919
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کا حلف اٹھاتا ہے، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6919]
تخریج الحدیث: «الطبراني فى المعجم الكبير (149/18)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6920
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ الْيَمِينَ الْغَمُوسَ مِنَ الْكَبَائِرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ كَثِيرٌ أَبُو الْفَضْلِ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم جھوٹی قسم کو کبیرہ گناہوں میں سے شمار کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر ابوفضل ہے، جس سے ایک جماعت نے روایات نقل کی ہیں، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6920]
تخریج الحدیث: «اخرج الطبراني فى المعجم الكبير (125/18)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6921
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيُّمَا امْرِئٍ اقْتَطَعَ [ حَقَّ امْرِئٍ ] بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ [ كَانَتْ ] نُكْتَةً سَوْدَاءَ مِنْ سِرْسَالٍ فِي قَلْبِهِ لَا يُغَيِّرُهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الَطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق ہتھیا لے گا، تو یہ اس کے دل میں سر سال سے بنا ہوا سیاہ نکتہ بن جائے گا، جسے قیامت کے دن تک کوئی چیز تبدیل نہیں کر سکے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ثعلبہ انصاری ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ جال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6921]
تخریج الحدیث: «اخر الطبراني فى المعجم الكبير (1383) ورواه الحاكم فى المستدرك (294/4)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں