مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا .
اس شخص کا بیان، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
حدیث نمبر: 6922
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ مِنْ أَسْرَقِ السُّرَّاقِ مَنْ يَسْرِقُ لِسَانَ الْأَمِيرِ. وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْخَطَايَا مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ. وَإِنَّ مِنَ الْحَسَنَاتِ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ، وَإِنَّ مِنْ تَمَامِ عِيَادَتِهِ أَنْ تَضَعَ يَدَكَ عَلَيْهِ وَتَسْأَلَهُ كَيْفَ هُوَ. وَإِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَاتِ: أَنْ تَشْفَعَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي نِكَاحٍ حَتَّى تَجْمَعَ بَيْنَهُمَا. وَإِنَّ مِنْ لُبْسَةِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلُ السَّرَاوِيلُ، وَإِنَّ مِمَّا يُسْتَجَابُ عِنْدَهُ الدُّعَاءُ: الْعُطَاسُ".
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.
سیدنا ابورہم سمعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سب سے بڑا چور وہ ہے، جو حاکم کی زبان چوری کرتا ہے اور سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق طور پر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے اور نیکیوں میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ بیمار کی عیادت کی جائے اور اس کی عیادت کی تکمیل میں یہ بات شامل ہے کہ تم اپنا ہاتھ اس پر رکھو اور تم اس سے دریافت کرو کہ وہ کیسا ہے؟ اور سب سے زیادہ فضیلت والی سفارش یہ ہے کہ تم نکاح کے موقع پر دو افراد (یعنی لڑکے اور لڑکی) کے درمیان سفارش کرو، یہاں تک کہ ان دونوں کو اکٹھا کروا دو، اور پہلے کے انبیاء کا لباس شلوار ہے اور جس موقع پر دعا مستجاب ہوتی ہے، وہ چھینکنا ہے“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6922]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے، جو نقصان دہ نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6922]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (336/22 رقم (843)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن