مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ .
قسم میں استثناء پیدا کرنا
حدیث نمبر: 6927
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا". ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شَاءَ اللَّهُ". ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا". ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شَاءَ اللَّهُ". ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قَرَيْشًا". ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں قریش کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا پھر آپ نے فرمایا: ان شاء اللہ، پھر آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں قریش کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا، پھر آپ نے فرمایا: ان شاء اللہ، پھر آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں قریش کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا پھر آپ نے فرمایا: ان شاء اللہ“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، امام ابویعلیٰ نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6927]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، امام ابویعلیٰ نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6927]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2674) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط، (1008) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11742)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6928
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:" وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ" الِاسْتِثْنَاءُ ؛ فَاسْتَثْنِ إِذَا ذَكَرْتَ، قَالَ: هِيَ خَاصَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَثْنِيَ إِلَّا فِي صِلَةِ الْيَمِينِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ”جب تم بھول جاؤ، تو اپنے پروردگار کا ذکر کرو“۔ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:) اس سے مراد استثناء کرنا ہے کہ جب تمہیں یاد آ جائے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی کے لئے یہ استثناء کرنے کا حق نہیں ہے، البتہ قسم کو ملانے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6928]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6928]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6929
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ مِنْ تَمَامِ إِيمَانِ الْعَبْدِ أَنْ يَسْتَثْنِيَ فِي كُلِّ حَدِيثٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بندے کی قسم کی تکمیل میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ہر بات میں استثناء کرے (یا ان شاء اللہ کہہ دے)“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6929]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6929]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6930
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر ان شاء اللہ کہہ دے، تو اس نے استثناء کر لیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی االلہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6930]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی االلہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6930]
الحكم على الحديث: إسناده منقطع