مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ إِبْرَارِ الْقَسَمِ .
قسم پوری کروانا
حدیث نمبر: 6931
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَهَدَتِ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا، وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَبِرِّيهَا، فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحْنِثِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے کچھ کھجوریں تھال میں رکھ کر انہیں دیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کچھ کھا لیں کچھ باقی بچ گئیں تو اس خاتون نے کہا: میں آپ کو قسم دے کر یہ کہتی ہوں کہ آپ باقی بھی کھا لیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: تم اس کی قسم پوری کروا دو، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6931]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6931]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (114/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6932
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَائِشَةَ فَجَاءَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا أَوْ مَوْلَاةٌ بِقَدِيدٍ، فَقَالَتْ: كُلِي هَذِهِ يَا سَيِّدَتِي، فَقَدْ أَعْجَبَنِي طِيبُهَا. فَقَالَتْ: أَخِّرِيهَا عَنِّي. فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَخِّرِيهَا عَنِّي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنْ أَحْنَثْتِيهَا كَانَ عَلَيْكِ إِثْمُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سید عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے، ان کی کنیز ان کے پاس ”قدید“ لے کے آئی، اس نے کہا: اے میری مالکن! آپ اسے کھائیں کیونکہ مجھے اس کی خوشبو پسند آئی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم ابھی مجھے اس سے دور رکھو، اس کنیز نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قسم دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم اسے مجھ سے دور رکھو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی قسم توڑواتی ہو، تو پھر اس کا گناہ تم پر ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6932]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6932]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7820)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6933
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أُمِرْنَا بِإِبْرَارِ الْقَسَمِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں قسم پوری کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6933]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6933]
تخریج الحدیث: «اخر الطبراني فى المعجم الكبير (10404)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6934
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَمَعَهُ غُنَيْمَاتٌ لَهُ، فَقَالَ: بِكَمْ تَبِيعْ غَنَمَكَ هَذِهِ؟ بِكَذَا وَكَذَا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ خُذْهَا بِالَّذِي أَعْطَيْتَنِي قَالَ: حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَلَمْ أَكُنْ لِأُعِينَ الشَّيْطَانَ عَلَيْكَ، وَأَنْ أُحْنِثَكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابوحازم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، جس کے ساتھ کچھ بکریاں تھیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم اپنی یہ بکریاں کتنے کے عوض میں فروخت کرو گے؟ کیا اتنے اتنے کے عوض میں فروخت کر دو گے؟ اس نے یہ حلف اٹھا لیا کہ وہ انہیں فروخت نہیں کرے گا، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آگے چلے گئے۔ انہوں نے اپنا کام مکمل کیا، جب وہ دوبارہ اس شخص کے پاس سے گزرے، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! آپ جو رقم مجھے دے رہے تھے اس کے عوض میں یہ حاصل کر لیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا: کہ تم نے تو قسم اٹھائی تھی، اب میں تمہارے خلاف شیطان کی مدد نہیں کروں گا کہ تمہیں حانث کروا دوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6934]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6934]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح