🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

10. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّذْرِ .
نذر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6947
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَفْتِيهِ كَانَ جَعَلَ عَلَى نَفْسِهِ بَدَنَةً فِي يَمِينٍ حَلَفَهَا، فَأَفْتَاهُ بِبَدَنَةٍ مِنَ الْإِبِلِ وَزَجَرَ الرَّجُلَ أَنْ يَعُودَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے ایک مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے ایک قسم اٹھاتے ہوئے اپنے اوپر قربانی کرنے کو لازم قرار دے دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم بیان کیا کہ وہ اونٹ قربان کرے گا اور اس شخص کو دوبارہ ایسا کرنے سے ڈانٹا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے، جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6947]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10700)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6948
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّذْرِ وَأَمَرَنَا بِالْوَفَاءِ بِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا ہے اور ہمیں اُس کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6948]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6949
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِّيَّةً فَقَالَ:" لَئِنْ سَلَّمَهُمُ اللَّهُ لَأَشْكُرَنَّهُ". أَوْ قَالَ:" عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَهُمُ اللَّهُ أَنْ أَشْكُرَهُ". فَغَنِمُوا وَسَلِمُوا فَقَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا". فَانْتَظَرَهُ النَّاسُ يَصْنَعُ شَيْئًا فَلَمْ يَرَوْهُ يَصْنَعُ شَيْئًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ، لِلَّذِي قَالَ. فَقَالَ:" أَوَلَمْ أَقُلِ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ شُكْرًا وَلَكَ الْمَنُّ فَضْلًا؟".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ فِي بَابِ: لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سلامت رکھا تو میں ضرور اس کا شکر ادا کروں گا (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سلامت رکھا تو مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کا شکر ادا کروں، تو ان لوگوں کو مال غنیمت بھی حاصل ہوا اور وہ سلامت بھی رہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! شکر کے طور پر، حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے، اور فضل کے طور پر تیرا ہی احسان ہے، لوگوں نے آپ کا انتظار کیا کہ شاید آپ کچھ کریں گے، لیکن جب انہوں نے آپ کو کچھ کرتے ہوئے نہ دیکھا تو عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے تو فلاں بات ارشاد فرمائی تھی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے یہ نہیں کہا: اے اللہ! شکر کے طور پر ہر طرح کی حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے اور فضل کے طور پر تیرا ہی احسان ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سالم مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے چل کر معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی والے باب میں آئے گی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6949]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (144/19 و145)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں