🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

18. بَابٌ: فِيمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ أَسْلَمَ .
اس شخص کا بیان، جس نے زمانہ جاہلیت میں کوئی نذر مانی ہو اور پھر وہ اسلام قبول کر لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6977
عَنْ كَرَدْمِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نَذْرٍ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلِوَثَنٍ أَوْ لِنُصُبٍ؟". قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى. قَالَ:" فَأَوْفِ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا جَعَلْتَ لَهُ. انْحَرْ عَلَى ثَوَابِهِ وَأَوْفِ نَذْرَكَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.
سیدنا کردم بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی نذر کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا وہ کسی بت کے لئے یا کسی مخصوص عبادت کے مقام کے لیے تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! بلکہ اللہ تعالی کے لئے تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اللہ تعالی کے لئے اسے پورا کرو جو تم نے اللہ تعالیٰ کے لئے طے کیا ہے اور اس کے ثواب کے حصول کے لئے جانور قربان کرو اور اپنی نذر پوری کرو۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس کی شناخت نہیں ہو سکی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6977]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (419/3)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6978
وَعَنِ ابْنَةِ كَرَدْمَةَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ إِجْمَاعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا. وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ [ الْجَارِيَةِ ] مَشْيًا أَفَأَمْشِي عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا کردمہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اور یہ کہا: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں تین اونٹ قربان کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نذر زمانہ جاہلیت کے کسی اجتماع کی بنیاد پر، یا زمانہ جاہلیت کی کسی عید کے حوالے سے، یا کسی بت کے حوالے سے تھی، تو پھر تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور اگر یہ اس کے علاوہ تھی، تو پھر تم اپنی نذر کو پورا کرو، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس لڑکی کی والدہ نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی، تو کیا میں اس کی طرف سے پیدل چل لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں!۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6978]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (376/5,64/4)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6979
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں حکم دریافت کیا، جو ان کی والدہ نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی، اور پھر اس کو پورا کرنے سے پہلے اس خاتون کا انتقال ہو گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: زمانہ جاہلیت میں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6979]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1347) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5365)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں