مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ : فِيمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، ثُمَّ أَسْلَمَ .
اس شخص کا بیان، جس نے زمانہ جاہلیت میں کوئی نذر مانی ہو اور پھر وہ اسلام قبول کر لے
حدیث نمبر: 6979
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْضِيَهُ عَنْهَا.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: فِي الْجَاهِلِيَّةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں حکم دریافت کیا، جو ان کی والدہ نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی، اور پھر اس کو پورا کرنے سے پہلے اس خاتون کا انتقال ہو گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”زمانہ جاہلیت میں“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6979]
یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”زمانہ جاہلیت میں“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6979]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1347) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5365)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
Majma al-Zawa'id Hadith 6979 in Urdu