مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ تَزْوِيجِ الْأَبْكَارِ وَالصِّغَارِ .
کنواری اور کمسن لڑکیوں سے شادی کرنا
حدیث نمبر: 7345
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَنَتَقُ أَرْحَامًا وَأَعْذَبُ أَفْوَاهًا وَأَقَلُّ حُبًّا وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَنِيزٌ السَّقَّاءُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَنِيزٌ السَّقَّاءُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم پر کنواری عورتوں سے شادی کرنا لازم ہے، کیونکہ ان کے رحم میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، ان کے منہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں اور خواہشات کم ہوتی ہیں، اور یہ تھوڑے پر راضی ہو جاتی ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کنیز سقاء ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7345]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کنیز سقاء ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7345]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7346
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجُوا الْأَبْكَارَ فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کنواری عورتوں کے ساتھ شادی کرو، کیونکہ ان کے منہ میٹھے ہوتے ہیں، رحم میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور یہ تھوڑے سے راضی ہو جاتی ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7346]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7346]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10244)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7347
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" يَا فُلَانُ تَزَوَّجْتَ؟" قَالَ: لَا. قَالَ لِي:" تَزَوَّجْتَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟" قُلْتُ: لَا بَلْ ثَيِّبًا. قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تَعَضُّهَا وَتَعَضُّكَ؟".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ الرَّبِيعَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ الرَّبِيعَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے فرمایا: اے فلاں! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! بلکہ ثیبہ کے ساتھ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری کے ساتھ کیوں نہیں؟ کہ تم اس کو کاٹتے اور وہ تمہیں کاٹتی۔
یہ روایت امام طبرانی نے ربیع بن کعب بن عجرہ کے حوالے سے اُن کے والد سے نقل کی ہے، میں نے کسی کو ربیع کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے، ابن حبان نے ان راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7347]
یہ روایت امام طبرانی نے ربیع بن کعب بن عجرہ کے حوالے سے اُن کے والد سے نقل کی ہے، میں نے کسی کو ربیع کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے، ابن حبان نے ان راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7347]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (149/19)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7348
وَعَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَتْ: وُلِدْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَوْمَ فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُنَيْنًا فَسَمَّانِي:" سَهْلَةَ" فَقَالَ:" سَهَّلَ اللَّهُ أَمْرَكِ" وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ وَزَوَّجَنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَوْمَ وُلِدْتُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیده سہلہ بنت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر میں پیدا ہوئی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کو فتح کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام سہلہ رکھا تھا اور یہ فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے کو آسان کرے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا حصہ بھی مقرر کیا تھا اور جس دن میں پیدا ہوئی تھی، اُس دن میری شادی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ کروا دی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7348]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7348]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (293,292/24)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً