مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابٌ فِي الرَّضَاعِ .
رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7355
عَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلِيَّ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَرْضِعِيهِ". فَقَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ، وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ؟ فَأَرْضَعَتْهُ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْجَمِيعَ رَوَوْهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلَةَ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْهَا أَمْ لَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْجَمِيعَ رَوَوْهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَهْلَةَ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْهَا أَمْ لَا.
سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابوحذیفہ کا غلام سالم، میرے ہاں آ جاتا ہے، اس کی داڑھی آ گئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دودھ پلا دو! اس خاتون نے عرض کی: میں اسے دودھ کیسے پلاؤں؟ جبکہ وہ داڑھی والا ہے، پھر اس خاتون نے اسے دودھ پلا دیا، تو وہ صاحب اس خاتون کے ہاں آ جایا کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ تمام راویوں نے اسے قاسم بن محمد کے حوالے سے سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور مجھے نہیں معلوم ان صاحب نے اس خاتون سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے؟۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7355]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ تمام راویوں نے اسے قاسم بن محمد کے حوالے سے سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور مجھے نہیں معلوم ان صاحب نے اس خاتون سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے؟۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7355]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (894) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (199) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (292/24) اخرجه احمد فى المسند (356/6)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7356
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ مِنْ خَالٍ أَوْ عَمٍّ أَوِ ابْنِ أَخٍ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے، جو نسب سے حرمت ثابت ہوتی ہے، ماموں، یا چچا، یا بھانجے وغیرہ کی“۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7356]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7356]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7357
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے، جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7357]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7357]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1432)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7358
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے، جو حرمت نسب سے ثابت ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7358]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7358]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7702)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7359
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رضاعت سے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے، جو نسب سے حرمت ثابت ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7359]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7359]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7360
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: قِيلَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" لَا تَحِلُّ بِنْتُ الْأَخِ، وَلَا بِنْتُ الْأُخْتِ مِنَ الرَّضَاعَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
ابوجعفر بیان کرتے ہیں: سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا: آپ وہ حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”رضاعی بھتیجی، یا رضاعی بھانجی (کے ساتھ شادی کرنا) حلال نہیں ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7360]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7360]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (154/19)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7361
وَعَنِ النَّخَعِيِّ أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ قَالَا: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رضاعت سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے، خواہ وہ (رضاعت) تھوڑی ہو، یا زیادہ ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7361]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7361]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9698)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7362
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ. قَلِيلُ الرَّضَاعِ وَكَثِيرُهُ سَوَاءٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا: ابن زبیر کا یہ کہنا ہے کہ رضاعت جو ایک چسکی یا دو چسکی کی ہو، وہ حرمت کو ثابت نہیں کرتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ابن زبیر کے فیصلے سے زیادہ بہتر ہے، رضاعت تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، برابر کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7362]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7362]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7363
وَعَنِ الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ وَالْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَدْ ضَعُفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَدْ ضَعُفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک چسکی، یا دو چسکیاں، ایک گھونٹ، یا دو گھونٹ حرمت ثابت نہیں کرتے ہیں“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار طاحی ہے، جسے ابوزرعہ، ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ویسے یہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7363]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار طاحی ہے، جسے ابوزرعہ، ابوحاتم اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ویسے یہ ضعیف ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7363]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (688) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (248)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7364
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَحْرُمُ الْعَنْقَةُ" قُلْنَا: وَمَا الْعَنْقَةُ؟ قَالَ:" الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَيَحْضَرُ اللَّبَنُ فِي ثَدْيِهَا فَتُرْضِعُ جَارَتَهَا الْمَرَّةَ وَالْمَرَّتَيْنِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقہ“ حرمت کو ثابت نہیں کرتا“ ہم نے دریافت کیا: عنقہ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو، اُس کی چھاتی میں دودھ آ جائے اور پھر وہ پاس موجود بچی کو ایک یا دو مرتبہ پلا دے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7364]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7364]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (404/20)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح