مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابٌ فِي الرَّضَاعِ .
رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7365
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ، وَلَا يَحْرُمُ مِنْهُ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک یا دو چسکیوں کی رضاعت، حرمت ثابت نہیں کرتی ہے، وہ رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے، جو آنتوں کو کھول دے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7365]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7365]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1444)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7366
وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا عَشْرَ رَضَعَاتٍ أَوْ بِضْعَ عَشْرَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رضاعت کے ذریعے حرمت کو اس وقت ثابت قرار دیتے تھے، جب دس مرتبہ، یا دس سے زیادہ مرتبہ رضاعت ہوئی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7366]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7366]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7367
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِطَامِ، وَلَا يُتْمَ بَعْدَ حُلُمٍ، وَلَا صَمْتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ، وَلَا طَلَاقَ إِلَّا بَعْدَ نِكَاحٍ".
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دودھ چھڑا لینے کے بعد رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا، بالغ ہو جانے کے بعد یتیمی کا حکم ثابت نہیں ہوتا، رات تک خاموش رہنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور نکاح کے بعد ہی طلاق دی جا سکتی ہے“۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مطرف بن مازن ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7367]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مطرف بن مازن ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7367]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7368
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَةً وَرِمَ ثَدْيُهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ بَطْنَهُ. فَقَالَ: لَا أَرَاهَا تَصْلُحُ لَهُ. فَأَتَى ابْنُ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْكَ إِنَّمَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَشَدَّ الْعَظْمَ، وَلَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ. فَقِيلَ لِأَبِي مُوسَى فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَقَامَ هَذَا بَيْنَ أَظْهُرِنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.
ابوعطیہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اس کی بیوی کی چھاتی میں ورم آ گیا، اس نے اسے چوسنا اور گھونٹ بھرنا شروع کیا، تو کچھ دودھ اس کے پیٹ میں چلا گیا، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے اب وہ عورت تمہارے لئے درست (یعنی حلال) نہیں رہی، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: وہ عورت تم پر حرام نہیں ہوئی ہے وہ رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے، جو گوشت پیدا کرتی ہے اور ہڈیاں مضبوط کرتی ہے اور دودھ چھڑا لینے کے بعد رضاعت ثابت نہیں ہوتی ہے، سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بتائی گئی، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے اُس وقت تک کوئی مسئلہ نہ پوچھنا، جب تک اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے یہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7368]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے، لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7368]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8500)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7369
وَعَنْ أَبِي قُعَيْسٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَكَرِهَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَاءَنِي أَبُو قُعَيْسٍ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ عَمُّكِ". وَكَانَ أَبُو قُعَيْسٍ أَخَا ظِئْرِ عَائِشَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعُفَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَقَدْ ضَعُفَ.
سیدنا ابوقعیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے اور انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو انہیں اجازت دینا اچھا نہیں لگا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابوقعیس میرے ہاں آئے تھے، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے ہاں آ سکتے ہیں، وہ تمہارے چچا ہیں، راوی کہتے ہیں: ابوقعیس، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ثقہ ہے، ویسے وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7369]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ثقہ ہے، ویسے وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7369]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (746)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7370
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ:" غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ بَكَّارٍ الْبَاهِلِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ بَكَّارٍ الْبَاهِلِيِّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سی چیز مجھ سے رضاعت کی مذمتہ (یعنی اس کی وجہ سے لازم ہونے والے حق) کو ختم کر سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک غلام یا کنیز ادا کرنا۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن بکار باہلی کے حوالے سے نقل کی ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7370]
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن بکار باہلی کے حوالے سے نقل کی ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7370]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1445)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7371
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ:" وَصْفُ غُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی چیز مجھ سے رضاعت کی مذمتہ (یعنی اس کی وجہ سے لازم ہونے والے حق) کو دور کر سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام، یا کنیز ادا کرنا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7371]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7371]
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7372
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَسْتَرْضِعُوا الْوَرْهَاءَ".
قَالَ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ: الْوَرْهَاءُ: الْحَمْقَاءُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَسْتَرْضِعُوا الْحَمْقَاءَ، فَإِنَّ اللَّبَنَ يُوَرَّثُ".
وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.
قَالَ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ: الْوَرْهَاءُ: الْحَمْقَاءُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَسْتَرْضِعُوا الْحَمْقَاءَ، فَإِنَّ اللَّبَنَ يُوَرَّثُ".
وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”احمق عورت سے دودھ نہ پلواؤ“۔ یونس بن حبیب کہتے ہیں: ”ورہاء“ کا مطلب احمق عورت ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”احمق عورت سے دودھ نہ پلوانا، کیونکہ دودھ کے اثرات ہوتے ہیں“۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7372]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”احمق عورت سے دودھ نہ پلوانا، کیونکہ دودھ کے اثرات ہوتے ہیں“۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7372]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (137) اخرجه البزار فى المسند (1446)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 7373
وَعَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ رَضَاعِ الْحَمْقَاءِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احمق عورت سے دودھ پلوانے سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7373]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7373]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف