مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابٌ فِي الرَّضَاعِ .
رضاعت کا بیان
حدیث نمبر: 7372
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَسْتَرْضِعُوا الْوَرْهَاءَ".
قَالَ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ: الْوَرْهَاءُ: الْحَمْقَاءُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَسْتَرْضِعُوا الْحَمْقَاءَ، فَإِنَّ اللَّبَنَ يُوَرَّثُ".
وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.
قَالَ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ: الْوَرْهَاءُ: الْحَمْقَاءُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَسْتَرْضِعُوا الْحَمْقَاءَ، فَإِنَّ اللَّبَنَ يُوَرَّثُ".
وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”احمق عورت سے دودھ نہ پلواؤ“۔ یونس بن حبیب کہتے ہیں: ”ورہاء“ کا مطلب احمق عورت ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”احمق عورت سے دودھ نہ پلوانا، کیونکہ دودھ کے اثرات ہوتے ہیں“۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7372]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے، تا ہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”احمق عورت سے دودھ نہ پلوانا، کیونکہ دودھ کے اثرات ہوتے ہیں“۔ ان دونوں کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب النكاح/حدیث: 7372]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (137) اخرجه البزار فى المسند (1446)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
Majma al-Zawa'id Hadith 7372 in Urdu