مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ .
شادی کا پیغام بھیجنے کے بارے میں کیا منقول ہے؟
حدیث نمبر: 7453
عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَبِعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص، اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر، شادی کا پیغام نہ بھیجے، اور اپنے بھائی کے سودے پر، سودا نہ کرے“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے، جسے امام أحمد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7453]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے، جسے امام أحمد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7453]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1420) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (6898)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن