مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابٌ فِي الْمُغِلِّ، وَغَيْرِهِ .
دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے والے شخص اور دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 7588
عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" الْمَعْكُ طَرَفٌ مِنَ الظُّلْمِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”معک، ایک قسم کا ظلم ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7588]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7588]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7589
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الِاغْتِيَالِ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ ضَرَّ أَحَدًا لَضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ".
قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: وَالِاغْتِيَالُ أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: وَالِاغْتِيَالُ أَنْ يَطَأَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اغتیال (یعنی دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے) سے منع کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ چیز کسی کے لئے نقصان دہ ہوتی، تو یہ اہل ایران اور اہل روم کو نقصان پہنچاتی۔ ابن بکیر کہتے ہیں: اغتیال یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرے جبکہ وہ دودھ پلانے والی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7589]
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7589]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى السد (1454) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11389)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7590
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْغَيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ وَذَلِكَ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیل سے منع کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: یہ چیز فارسیوں کو اور رومیوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت صحبت کرے جب وہ دودھ پلاتی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7590]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7590]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف