مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ .
شوہر پر عورت کے حق کا بیان
حدیث نمبر: 7610
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِيَّةِ، وَكَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ: فَرَأَى بَذَاذَةَ هَيْئَتِهَا فَقَالَ لِي:" يَا عَائِشَةُ مَا أَبَذَّ هَيْئَةِ خُوَيْلَةَ" قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ امْرَأَةٌ لَا زَوْجَ لَهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَهِيَ كَمَنْ لَا زَوْجَ لَهَا فَتَرَكَتْ نَفْسَهَا وَأَضَاعَتْهَا. قَالَتْ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَجَاءَهُ فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي؟" قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ! قَالَ:" فَإِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ، فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ".
قُلْتُ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ إِنَّ لَكَ فِيَّ أُسْوَةً إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا".
قُلْتُ رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ إِنَّ لَكَ فِيَّ أُسْوَةً إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا".
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: خویلہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ میرے ہاں آئیں وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حالت کو خراب دیکھا تو مجھ سے کہا: اے عائشہ! خویلہ کی حالت کیوں خراب ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ ایک ایسی عورت ہیں جس کا شوہر دن کے وقت روزہ رکھ لیتا ہے، اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے، تو یہ اس طرح ہی ہے جس طرح اس کا شوہر ہے اس نے اپنے آپ کو چھوڑ دیا ہے، اور خود کو ضائع کر رہی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا وہ آپ کے پاس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! کیا تم میری سنت سے منہ موڑ رہے ہو اس نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! میں، تو آپ کی سنت کی پیروی کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر میں (رات کے وقت) سو بھی جاتا ہوں، اور نفل بھی پڑھتا ہوں، اور میں (دن کے وقت، نفلی) روزہ رکھ بھی لیتا ہوں، اور چھوڑ بھی دیتا ہوں، اور میں نے عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا ہوا ہے اے عثمان تم اللہ سے ڈرو تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے تمہاری جان کا تم پر حق ہے تم (نفلی) روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو اور تم (رات کے وقت) نفل پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: میں یہ کہتاہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ ہے میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا میں ہوں“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7610]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: میں یہ کہتاہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عثمان! تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ ہے میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا میں ہوں“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7610]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1458 و 1457) أخرجه احمد فى المسند (268/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 7611
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَحْمَدَ:" إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا إِنَّ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَحْفَظَكُمْ لِحُدُودِهِ لَأَنَا".
ایک روایت جو امام أحمد سے منقول ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: رہبانیت ہم پر لازم قرار نہیں دی گئی ہے تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا ”میں“ ہوں“۔ امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ پہلے خضاب لگایا کرتی تھیں اور خوشبو لگایا کرتی تھیں پھر انہوں نے اسے ترک کر دیا پھر وہ ایک مرتبہ میرے پاس آئیں، تو میں نے کہا: کیا آپ کے میاں موجود ہیں یا گئے ہوئے ہیں انہوں نے کہا: موجود ہیں لیکن غیر موجود کی مانند ہیں میں نے ان سے دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: عثمان کو دنیا کی طلب نہیں ہے اسے عورتوں میں دلچسپی نہیں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے فرمایا: اے عثمان! کیا تم اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں انہوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، پھر تم ہمارے اسوہ کی پیروی کیوں نہیں کرتے۔ امام أحمد کی سند کے رجال ثقہ ہیں، البتہ ایک روایت ”تم سب سے زیادہ ڈرنے والا“ اس کو امام أحمد نے مسند روایت کے طور پر نقل کیا ہے، اور امام بزار نے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو ثقہ راویوں کے حوالے سے منقول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7611]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (226/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7611M
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ تَخْتَضِبُ وَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا: أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ؟ فَقَالَتْ: مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ. فَقُلْتُ لَهَا: مَا لَكِ؟ فَقَالَتْ: عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا، وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ؟" قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا؟".
وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ طَرِيقَ" إِنَّ أَخْشَاكُمْ" أَسْنَدَهَا أَحْمَدُ وَوَصَلَهَا الْبَزَّارُ بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ.
وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ طَرِيقَ" إِنَّ أَخْشَاكُمْ" أَسْنَدَهَا أَحْمَدُ وَوَصَلَهَا الْبَزَّارُ بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ.
مسندِ أحمد کی ایک روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (خُولہ بنتِ حکیم) خضاب (مہندی) لگایا کرتی تھیں اور خوشبو استعمال کیا کرتی تھیں، پھر انہوں نے یہ سب چھوڑ دیا۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں تو میں نے ان سے پوچھا: (کیا تمہارا شوہر) گھر پر موجود ہے یا سفر میں (غائب) ہے؟ انہوں نے کہا: وہ موجود ہو کر بھی غائب ہی کی طرح ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: عثمان نہ دنیا کی خواہش رکھتے ہیں اور نہ عورتوں میں رغبت رکھتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”اے عثمان! کیا تم اس بات پر ایمان رکھتے ہو جس پر ہم ایمان لاتے ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تمہارے لیے ہمارے طریقہِ کار میں اسوہ (پیروی) کیوں نہیں ہے؟“۔
امام أحمد کی اسناد کے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے اس کے کہ ” «إِنَّ أَخْشَاكُمْ» “ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے والی سند کو امام أحمد نے مسند کیا ہے اور امام بزار نے اسے ثقہ راویوں کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے۔
[مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7611M]
امام أحمد کی اسناد کے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے اس کے کہ ” «إِنَّ أَخْشَاكُمْ» “ یعنی تم میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے والی سند کو امام أحمد نے مسند کیا ہے اور امام بزار نے اسے ثقہ راویوں کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے۔
[مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7611M]
حدیث نمبر: 7612
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْأَةِ فَقُلْنَ لَهَا: مَا لَكِ؟ مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ؟ قَالَتْ: مَا لَنَا مِنْهُ مِنْ شَيْءٍ أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ. فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ. قَالَ: فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ؟" قَالَ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. فَقَالَ:" أَمَا أَنْتَ فَتَقُومُ بِاللَّيْلِ وَتَصُومُ بِالنَّهَارِ،وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ" قَالَ: فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ فَقُلْنَ لَهَا: مَهْ. قَالَتْ: أَصَابَنَا مَا أَصَابَ النَّاسَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس آئیں ان ازواج نے انہیں دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہیں کیا ہوا ہے قریش میں کوئی بھی شخص تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال نہیں ہے اس خاتون نے کہا: میرا ان کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہیں ہے وہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہیں اور رات کے وقت نفل پڑھتے رہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے، تو ازواج نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے فرمایا: اے عثمان! کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں نمونہ نہیں ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہوا ہے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رات کو نفل پڑھتے رہتے ہو دن کو روزہ رکھ لیتے ہو؟ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تم نماز بھی پڑھا کرو اور سو بھی جایا کرو روزہ بھی رکھا کرو اور روزہ ترک بھی کر دیا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہ خاتون ان ازواج کے پاس آئیں، تو انہوں نے عطر لگایا ہوا تھا یوں جیسے وہ دلہن ہوں ان ازواج نے ان سے دریافت کیا: اب کیا ہوا ہے، تو انہوں نے بتایا ہمیں بھی وہ چیز نصیب ہوئی ہے جو لوگوں کو ملتی ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے۔ امام طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7612]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے۔ امام طبرانی کی بعض اسانید کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7612]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7242)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7613
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ امْرَأَةً جَمِيلَةً عَطِرَةً تُحِبُّ اللِّبَاسَ وَالْهَيْئَةَ لِزَوْجِهَا فَرَأَتْهَا عَائِشَةُ وَهِيَ تَفِلَةٌ فَقَالَتْ: مَا حَالُكِ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَدْ تَخَلَّوْا لِلْعِبَادَةِ وَامْتَنَعُوا مِنَ النِّسَاءِ وَأَكْلِ اللَّحْمِ وَصَامُوا النَّهَارَ وَقَامُوا اللَّيْلَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُرِيَهُ مِنْ حَالِي مَا يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدِي لَمَّا تَخَلَّى لَهُ. فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلَهُ فَحَمَلَهَا بِالسَّبَّابَةِ مِنْ أُصْبُعِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَيْهِمْ جَمِيعًا حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَالِهِمْ قَالُوا: أَرَدْنَا الْخَيْرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ، وَلَمْ أُبْعَثْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ الْبِدْعَةِ، أَلَا وَإِنَّ أَقْوَامًا ابْتَدَعُوا الرَّهْبَانِيَّةَ فَكُتِبَتْ عَلَيْهِمْ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا أَلَا فَكُلُوا اللَّحْمَ وَائْتُوا النِّسَاءَ وَصُومُوا وَأَفْطِرُوا وَصَلُّوا وَنَامُوا، فَإِنِّي بِذَلِكَ أُمِرْتُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِلْمِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي الْعِلْمِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خوبصورت عورت تھیں وہ عطر لگاتی تھیں وہ اپنے شوہر کے لئے عمدہ لباس اور تیار ہونے کو پسند کرتی تھیں، ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں دیکھا کہ ان کی حالت خراب ہے، تو دریافت کیا: آپ کی یہ حالت کیوں ہو گئی انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب جن میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ شامل ہیں ان حضرات نے عبادت کے لئے تخلیہ اختیار کر لیا ہے عورتوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے گوشت کھانا چھوڑ دیا ہے یہ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو نفل پڑھتے رہتے ہیں، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں انہیں وہ حالت دکھاؤں کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دیں جس کے لئے انہوں نے خلوت اختیار کی ہے، اور میری طرف آ جائیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہنا آپ نے شہادت کی انگلی اور دوسری انگلی کے ذریعے اسے اٹھایا اور پھر تیزی سے ان افراد کی طرف چلے گئے آپ ان حضرات کے پاس تشریف لے گئے ان سے ان کی حالت کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے عرض کی: ہم نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نرم اور سیدھے دین کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے مجھے نو ایجاد شدہ رہبانیت کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا ہے کچھ لوگوں نے رہبانیت کو ایجاد کیا تھا وہ ان پر لازم قرار دیدی گئی، تو انہوں نے پھر اس کا اس طرح خیال نہیں رکھا جو اس کا خیال رکھنا چاہیے تھا خبردار تم لوگ گوشت کھاؤ عورتوں کے پاس جاؤ (نفلی) روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دو اور (نفل) نماز پڑھو اور سو بھی جایا کرو مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ اس سے پہلے علم سے متعلق باب میں اس روایت کی ایک سند گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7613]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ اس سے پہلے علم سے متعلق باب میں اس روایت کی ایک سند گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7613]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7614
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَمَا تُعَلِّقُ يَدَاهَا الْخَيْطَ فَمَا يَرْغَبُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ".
قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ:" إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" فَقَطْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ جَابِرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْمِقْدَامِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
قُلْتُ: رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ:" إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" فَقَطْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ جَابِرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْمِقْدَامِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں خواتین کے بارے میں بھلائی کا حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں خواتین کے بارے میں بھلائی کا حکم دیا ہے وہ تمہاری مائیں ہیں تمہاری بیٹیاں ہیں تمہاری خالائیں ہیں، اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے، اس عورت کے ہاتھ دھاگے سے متعلق نہیں ہوتے، لیکن ان دونوں (میاں بیوی) میں سے کوئی بھی دوسرے سے بے رغبت نہیں ہوتا“۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کے بارے میں حکم دیا ہے“۔ اس میں صرف یہ الفاظ ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یحیی بن جابر نے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7614]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے ان کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں حکم دیا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کے بارے میں حکم دیا ہے“۔ اس میں صرف یہ الفاظ ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یحیی بن جابر نے سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7614]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (274/20)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7615
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ:" وَخِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ:" وَخِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ".
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ کامل وہ شخص ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو اور اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے۔ صرف یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”جو اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7615]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے۔ صرف یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں: ”جو اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7615]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (50/2,472,527)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 7616
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" خِيَارُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے لئے سب سے بہتر ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رؤبہ ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7616]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رؤبہ ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7616]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (341/22)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7617
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَأُنْكِرَ عَلَيْهِ كَثْرَةُ الْغَلَطِ وَتَمَادِيهِ فِيهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَأُنْكِرَ عَلَيْهِ كَثْرَةُ الْغَلَطِ وَتَمَادِيهِ فِيهِ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے اس کی بکثرت غلطیوں اور اس کی سرکشی کی وجہ سے اسے منکر قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7617]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے اس کی بکثرت غلطیوں اور اس کی سرکشی کی وجہ سے اسے منکر قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7617]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (363/19)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7618
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیویوں کے حق میں سب سے بہتر ہوں“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7618]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن مصعب ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7618]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1480)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف