مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابٌ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ، وَعِدَّةُ مَنْ شَهِدَهَا
غزوہ بدر کون سے مہینے میں پیش آیا تھا؟ اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے؟
حدیث نمبر: 10034
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتًّا وَسَبْعِينَ، وَكَانَتْ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشَرَةَ مَضَيْنَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشْرَ. وَقَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ مِائَتَيْنِ وَسِتًّا وَثَلَاثِينَ، وَكَانَ لِوَاءُ الْمُهَاجِرِينَ مَعَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثَمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشْرَ. وَقَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ مِائَتَيْنِ وَسِتًّا وَثَلَاثِينَ، وَكَانَ لِوَاءُ الْمُهَاجِرِينَ مَعَ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ یہ فرماتے تھے: اہل بدر کی تعداد تین سو تیرہ تھی، جن میں مہاجرین چھہتر تھے۔ غزوہ بدر کا واقعہ رمضان کی، سترہ تاریخ کو جمعہ کے دن پیش آیا تھا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: انصار کی تعداد دو سو چھتیس تھی، اور مہاجرین کا جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے، ان کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10034]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: انصار کی تعداد دو سو چھتیس تھی، اور مہاجرین کا جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہے، ان کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10034]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1783) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12083) اخرجه احمد فى المسند (2232)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10035
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ لِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر ستائیس رمضان کو ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10035]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10035]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12063)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10036
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَدْرِيِّ قَالَ: كَانَتْ صَبِيحَةُ بَدْرٍ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشَرَةَ مِنْ رَمَضَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عامر بن عبدالله بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کی صبح، پیر کے دن، سترہ رمضان کو ہوئی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10036]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10036]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10037
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ عِدَّةُ أَهْلِ بَدْرٍ عِدَّةَ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسَبْعَةَ عَشَرَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اہل بدر کی تعداد، طالوت کے ساتھیوں کی تعداد جتنی تھی، جب اُنہوں نے جالوت کے ساتھ جنگ کی تھی، یعنی تین سو سترہ تھی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10037]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10037]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1781)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 10038
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: كَانَ عِدَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَمِائَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”(غزوہ بدر کے موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تعداد تین سو (کے لگ بھگ) تھی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10038]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10038]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10039
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هُمْ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَّ". فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَّرَهُ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ:" عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث منقول ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ یعنی مشرکین (کتنے ہیں؟) تم آؤ! تاکہ ہم بھی گنتی کر لیں (کہ ہماری تعداد کتنی ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں:) تو ہم تین سو تیرہ افراد تھے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو آپ اس بات پر خوش ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور ارشاد فرمایا: یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے“۔
یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10039]
یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ/حدیث: 10039]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف