مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابٌ فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ ، وَعِدَّةُ مَنْ شَهِدَهَا
غزوہ بدر کون سے مہینے میں پیش آیا تھا؟ اور اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے؟
حدیث نمبر: 10039
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هُمْ - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَّ". فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَّرَهُ ذَلِكَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَقَالَ:" عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَالْكَلَامُ عَلَيْهِ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک طویل حدیث منقول ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ یعنی مشرکین (کتنے ہیں؟) تم آؤ! تاکہ ہم بھی گنتی کر لیں (کہ ہماری تعداد کتنی ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں:) تو ہم تین سو تیرہ افراد تھے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو آپ اس بات پر خوش ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور ارشاد فرمایا: یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے“۔
یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 10039]
یہ روایت غزوہ بدر سے متعلق باب کے آغاز میں گزر چکی ہے اور اس پر کلام بھی گزر چکا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كتاب المغازي والسير/حدیث: 10039]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
Majma al-Zawa'id Hadith 10039 in Urdu