🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

13. بَابٌ فِي ذِكْرِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ .
حضرت یحیی بن حضرت زکریا علیہما السلام کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13801
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ نَتَذَاكَرُ فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ، وَذَكَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَا تَذْكُرُونَ بَيْنَكُمْ؟". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْنَا فَضَائِلَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهُمْ أَفْضَلُ، فَذَكَرْنَا نُوحًا وَطُولَ عِبَادَتِهِ رَبَّهُ، وَذَكَرْنَا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، وَذَكَرْنَا مُوسَى مُكَلِّمَ اللَّهِ، وَذَكَرْنَا عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ، وَذَكَرْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَمَنْ فَضَّلْتُمْ؟". فَقُلْنَا: فَضَّلْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثَكَ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَأَنْتَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ خَيْرًا مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ:" أَلَمْ تَسْمَعُوا كَيْفَ نَعَتَهُ فِي الْقُرْآنِ (يَايَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا) إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: (حَيًّا) (مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ) لَمْ يَعْمَلْ سَيِّئَةً وَلَمْ يَهِمَّ بِهَا". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں ایک حلقے میں موجود تھا، ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ تو ہم نے سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی طویل عرصہ تک عبادت کی، ہم نے سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا، ہم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا، ہم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا، ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا، ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم لوگ کس بارے میں بات چیت کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کی: ہم لوگ انبیاء کرام کے فضائل کا ذکر کر رہے تھے کہ اُن میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ تو ہم نے سیدنا نوح علیہ السلام کا ذکر کیا کہ انہوں نے ایک طویل عرصے تک اپنے پروردگار کی عبادت کی، ہم نے سیدنا ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا، ہم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا، اور ہم نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر کیا، اور یا رسول اللہ! ہم نے آپ کا بھی ذکر کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم نے کسے افضل قرار دیا؟ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو افضل قرار دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا ہے، اور آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے، اور آپ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یحیی بن زکریا سے زیادہ بہتر ہو، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کیسے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں ہے؟ کہ قرآن میں ان کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں: اے یحیی! تم کتاب کو قوت کے ساتھ حاصل کر لو، اور ہم نے بچپن میں ہی اس کو حکم (یعنی نبوت) عطا کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے: زندہ (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے کلمے کی تصدیق کرنے والا تھا، سردار تھا اور عورتوں سے بچنے والا تھا، اور (ہمارے) خاص لوگوں میں سے نبی تھا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) انہوں نے کبھی کوئی برا کام نہیں کیا تھا، اور نہ ہی کبھی اس کا ارادہ کیا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْأَنْبِيَاءِ) صَلَوَاتُ اللَّهِ تَعَالَى وَسَلَامُهُ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 13801]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2358) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12938)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13802
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ [ بِخَطِيئَةٍ ] لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ:" فَإِنَّهُ لَمْ يَهُمَّ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْهَا". وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اولاد آدم میں سے ہر ایک نے، یا تو کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو گا، یا غلطی کا ارادہ کیا ہو گا، لیکن سیدنا یحیی بن ذکریا علیہ السلام نے ایسا نہیں کیا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: انہوں نے کبھی اس کا ارادہ نہیں کیا، اور انہوں نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْأَنْبِيَاءِ) صَلَوَاتُ اللَّهِ تَعَالَى وَسَلَامُهُ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 13802]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1359) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2544) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1757)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13803
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا، مَا هَمَّ بِخَطِيئَةٍ". أَحْسَبُهُ قَالَ:" وَلَا عَمِلَهَا". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ یہ کہے: میں سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام سے زیادہ بہتر ہوں، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی گناہ کا ارادہ بھی نہیں کیا (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:) اور انہوں نے (کبھی) اس (برائی) پر عمل بھی نہیں کیا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْأَنْبِيَاءِ) صَلَوَاتُ اللَّهِ تَعَالَى وَسَلَامُهُ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 13803]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2360)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13804
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" كُلُّ بَنِي آدَمَ يَلْقَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِذَنْبٍ، وَقَدْ يُعَذِّبُهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ أَوْ يَرْحَمُهُ، إِلَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا، فَإِنَّهُ كَانَ" سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ". وَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَذَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخَذَهَا وَقَالَ:" ذَكَرُهُ مِثْلَ هَذِهِ الْقَذَاةِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّعَيْنِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن ہر انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی گناہ کے ہمراہ حاضر ہو گا، جس کا اس نے ارتکاب کیا ہو گا، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا، تو اس گناہ کے حوالے سے اسے عذاب دیدے گا اور اگر چاہے گا، تو اس پر رحم کر دے گا، صرف سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ سردار تھے، پاک دامن تھے اور نبی تھے، اور نیک لوگوں میں سے تھے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر پڑے ہوئے ایک تیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے پکڑایا اور پھر یہ فرمایا: اُن کی شرمگاہ اس تیلے کی مانند تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن سلیمان رعینی ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/(كِتَابٌ فِيهِ ذِكْرُ الْأَنْبِيَاءِ) صَلَوَاتُ اللَّهِ تَعَالَى وَسَلَامُهُ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 13804]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں