🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

103. بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِهَا وَتَزْوِيجِهَا بِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15216
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، لَمْ نَجِدْ فِي بَيْتِهِ إِلَّا رَمْلًا مَبْسُوطًا، وَوِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، وَجَرَّةً، وَكُوزًا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: [ إِلَى عَلِيٍّ ] " لَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا - أَوْ قَالَ: لَا تَقْرَبَنَّ أَهْلَكَ - حَتَّى آتِيَكَ". فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَثَمَّ أَخِي؟". فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ - وَهِيَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَكَانَتْ حَبَشِيَّةً، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَالِحَةً -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَخُوكَ وَزَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ، وَآخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَنَفْسِهِ. قَالَ:" إِنَّ ذَلِكَ يَكُونُ يَا أُمَّ أَيْمَنَ".
قَالَتْ: فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَ عَلِيٍّ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ تَعْثُرُ فِي مِرْطِهَا مِنَ الْحَيَاءِ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ لَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ لَهَا:" أَمَا إِنِّي لَمْ آلُكِ أَنْ أَنَكَحْتَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ". ثُمَّ رَأَى سَوَادًا مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ - أَوْ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ - فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟". قَالَتْ: أَسْمَاءُ، قَالَ:" أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ؟". قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" جِئْتُ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ مَعَ ابْنَتِهِ ] ؟". قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ يُبْنَى بِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ تَكُونُ قَرِيبًا مِنْهَا، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَفْضَتْ ذَلِكَ إِلَيْهَا. قَالَتْ: فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ إِنَّهُ لَأَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي. ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ:" دُونَكَ أَهْلَكَ". ثُمَّ خَرَجَ فَوَلَّى، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجَرِهِ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف کروائی گئی تو ہمیں گھر میں صرف ریت بچھانے کے لئے ملی اور ایک تکیہ تھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مٹکا تھا اور ایک پیالہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم نے اس وقت تک کچھ نہیں کرنا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم نے اپنی بیوی کے قریب نہیں جانا جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا: کیا یہاں میرا بھائی ہے؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا جو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک حبشی خاتون تھی اور ایک نیک خاتون تھیں، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے بھائی ہیں، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کے ساتھ ان کی شادی کر دی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا تو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا، آپ نے فرمایا: اے ام ایمن! ایسا ہو جاتا ہے، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر ہاتھ پھیرا، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ اٹھ کر آپ کے پاس آئیں، وہ شرم کی وجہ سے اپنی چادر میں دہری ہو رہی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بھی پانی چھڑکا اور جو اللہ کو منظور تھا، وہ پڑھا، پھر آپ نے ان سے فرمایا: میں نے تمہارے بارے میں، اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں نے تمہاری شادی اپنے خاندان میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کے ساتھ کی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کے پیچھے کسی کو ملاحظہ کیا تو دریافت کیا: کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اسماء، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اسماء بنت عمیس؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہاں اس لئے آئی ہو تاکہ اللہ کے رسول کی صاحبزادی کے ساتھ رہو، انہوں نے عرض کی: جی ہاں! جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے اور اس کی رخصتی ہوتی ہے، تو اس کے ساتھ کوئی عورت اس کے قریب ہونی چاہیے تاکہ اسے کوئی ضرورت پیش آئے تو وہ اس کو پورا کر سکے، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دی، جو میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی بیوی کو ساتھ لو، پھر آپ تشریف لے گئے اور مسلسل ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ اپنے حجرے میں داخل ہو گئے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15216]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (137/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15217
وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَيْضًا قَالَتْ: كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحَتْ جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ الْبَابَ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ أُمُّ أَيْمَنَ فَفَتَحَتْ لَهُ الْبَابَ، فَقَالَ لَهَا:" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي أَخِي". فَقَالَتْ: أَخُوكَ هُوَ - [ أَيْ كَلِمَةٌ يَمَانِيَّةٌ ] - وَتُنْكِحُهُ ابْنَتَكَ؟ قَالَ:" يَا أُمَّ أَيْمَنَ، ادْعِي لِي". فَسَمِعَ النِّسَاءُ صَوْتَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَشْحَشْنَ، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُوا لِي فَاطِمَةَ". فَجَاءَتْ وَهِيَ عَرِقَةٌ، أَوْ حِزِقَةٌ مِنَ الْحَيَاءِ، فَقَالَ:" اسْكُتِي ; فَقَدَ أَنَكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ". فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ بیان کرتی ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تو اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے دروازے پر دستک دی، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا اٹھ کر آپ کے پاس گئیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دروازہ کھولا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: اے ام ایمن! میرے بھائی کو میرے پاس بلا کے لاؤ، انہوں نے عرض کی: وہ آپ کے بھائی ہیں اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام ایمن! اسے میرے پاس بلا کے لاؤ، خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لی، وہ ایک طرف ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کونے میں تشریف فرما ہوئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا پھر آپ نے ان پر پانی چھڑکا، پھر فرمایا: میرے پاس فاطمہ کو بلا کے لاؤ، جب وہ آئیں تو وہ شرم کی وجہ سے دہری ہو رہی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ، میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے جو میرے اہل بیت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15217]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (136/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15218
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ إِلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلٍ - قَالَ عَطَاءٌ: مَا الْخَمِيلُ؟ قَالَ: قَطِيفَةٌ - وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِذْخِرٍ، وَقِرْبَةٍ. كَانَا يَتَفَرَّشَانِ الْخَمِيلَ، وَيَلْتَحِفَانِ بِنِصْفِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی تو ان کے ہمراہ ایک خمیل بھیجا۔ عطا کہتے ہیں: انہوں نے دریافت کیا: خمیل سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: چادر اور ایک چمڑے سے بنا ہوا تکیہ بھیجا جس کے اندر پتے اور اذخر بھرا ہوا تھا اور ایک مشکیزہ بھیجا، انہوں نے چادر کو نیچے بچھا لیا اور اس کا نصف حصہ اپنے اوپر اوڑھ لیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15218]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15219
وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوَّجَ ابْنَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ حَتَّى يَجِيئَهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
قُلْتُ: رَوَى هَذَا فِي تَرْجَمَةِ أُمِّ أَيْمَنَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَا يُنَاسِبُهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کی اور انہیں یہ حکم دیا کہ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس نہیں آ جاتے وہ اپنی بیوی کے پاس نہ جائیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات میں ذکر کی گئی ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو ذکر کرنے کی کوئی مناسب جگہ نہیں تھی، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15219]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (91/25)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15220
وَعَنْ أُمِّ سَلْمَى قَالَتْ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهَا، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا، فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْنَاهَا فِي شَكْوَاهَا تِلْكَ، قَالَتْ: وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّهْ، اسْكُبِي لِي غُسْلًا، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ أَعْطِينِي ثِيَابِيَ الْجُدُدَ، فَأَعْطَيْتُهَا فَلَبِسَتْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ، فَفَعَلْتُ، وَاضْطَجَعَتْ، وَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ، وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ وَقَدْ تَطَهَّرْتُ، فَلَا يَكْشِفْنِي أَحَدٌ. فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا، قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدہ ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب اس بیماری میں مبتلا ہوئیں جس میں ان کا انتقال ہوا تھا، تو میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی ایک دن میں نے انہیں اچھی حالت میں دیکھا، جب سے وہ بیمار ہوئی تھیں، میں نے انہیں اس طرح کی حالت میں نہیں دیکھا تھا، وہ خاتون بیان کرتی ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم میرے لئے غسل کے لئے پانی تیار کرو، میں نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی تیار کیا، تو انہوں نے اچھی طرح غسل کیا، پھر انہوں نے فرمایا: تم مجھے نئے کپڑے دو، انہوں نے انہیں نئے کپڑے دیے، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پہن لئے، پھر انہوں نے فرمایا: تم میرے لئے گھر کے درمیان میں میرا بستر بچھا دو، میں نے ایسا ہی کیا، وہ لیٹ گئیں۔ انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھا اور پھر یہ کہا: اب میرا انتقال ہونے لگا ہے، میں نے طہارت حاصل کر لی ہے اب کوئی خاتون میرا کپڑا نہ ہٹائے، پھر اسی جگہ پر ان کا انتقال ہوا، وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15220]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (461/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15221
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ: أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - لَمَّا حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ أَمَرَتْ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَوَضَعَ لَهَا غُسْلًا، فَاغْتَسَلَتْ وَتَطَهَّرَتْ، وَدَعَتْ بِثِيَابِ أَكْفَانِهَا، فَأُتِيَتْ بِثِيَابٍ غِلَاظٍ خُشْنٍ وَلَبِسَتْهَا، وَمَسَّتْ مِنْ حَنُوطٍ، ثُمَّ أَمَرَتْ عَلِيًّا أَنْ لَا تُكْشَفَ إِذَا قُبِضَتْ، وَأَنْ تُدْرَجَ كَمَا هِيَ فِي ثِيَابِهَا، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَكَتَبَ فِي أَطْرَافِ أَكْفَانِهِ: يَشْهَدُ كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ: أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ فَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ.
عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی رکھا، انہوں نے غسل کیا اور طہارت حاصل کی پھر انہوں نے کفن کے کپڑے منگوائے، ان کے پاس موٹے کپڑے لائے گئے م وہ انہوں نے پہن لئے، انہوں نے اس پر حنوط لگائی پھر انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جب ان کا انتقال ہو جائے تو ان کا کپڑا نہ ہٹایا جائے اور انہیں اسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا، کیا آپ کو کسی کے بارے میں علم ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہو؟ تو ان صاحب نے جواب دیا: جی ہاں، کثیر بن عباس نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر یہ لکھوایا تھا کہ کثیر بن عباس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا تو سند منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15221]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (399/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15222
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقٍ قَالَ: تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ، وَكَانَ مَوْلِدُهَا وَقُرَيْشٌ تَبْنِي الْكَعْبَةَ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعِ سِنِينَ وَسِتَّةِ أَشْهُرٍ، وَأَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ بَعْدَ مَبْعَثِهِ، ثُمَّ هَاجَرَ فَأَقَامَ عَشْرًا، ثُمَّ عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، وَتُوُفِّيَتْ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ [ مِنَ الْهِجْرَةِ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ.
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اٹھائیس سال کی عمر میں ہوا تھا جب وہ پیدا ہوئیں تھیں اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے سات سال چھ ماہ پہلے کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی بعثت کے بعد دس سال مکہ میں مقیم رہے پھر آپ نے ہجرت کی اور آپ دس سال (مدینہ منورہ میں) مقیم رہے، آپ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں اور ان کا انتقال گیارہ ہجری میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15222]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (399/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15223
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ستائیس سال کی عمر میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15223]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (399/22)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15224
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ لِي غَيْرُ وَاحِدٍ: كَانَتْ فَاطِمَةُ أَصْغَرَ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُنَّ إِلَيْهِ. وَزَعَمَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ أَنَّ رُقَيَّةَ أَصْغَرَ مِنْ فَاطِمَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابن جریج بیان کرتے ہیں: ایک سے زیادہ افراد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے کمسن تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ زبیر بن بکار کا یہ کہنا ہے: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کمسن تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15224]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (397/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15225
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ" فُسْتُقَةَ" قَالَ: كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُكَنَّى: أُمُّ أَبِيهَا.
قَالَ: كَانَتْ أَصْغَرَ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةِ. وَقِيلَ: كَانَتْ تَوْأَمَ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فِي الطَّبَرَانِيِّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.
محمد بن علی مدینی فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کنیت وہی تھی جو ان کے والد کی والدہ کی تھی، وہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے کمسن تھی، ایک قول یہ ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔ طبرانی کی روایت سند کے اعتبار سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15225]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (397/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں