مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. بَابُ مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15189
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ".
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ ذِكْرِ فَاطِمَةَ وَمَرْيَمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ ذِكْرِ فَاطِمَةَ وَمَرْيَمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور فاطمہ وہاں کی خواتین کی سردار ہے، البتہ مریم بنت عمران کا معاملہ مختلف ہے۔“ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15189]
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15189]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1169) احمد (3/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15190
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَعْدَ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ: فَاطِمَةُ، وَخَدِيجَةُ، ثُمَّ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَآسِيَةُ". وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مریم بنت عمران کے بعد اہل جنت کی خواتین کی سردار فاطمہ اور خدیجہ ہیں، اور پھر آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے لفظ ”آسیہ“ نقل کیا ہے، اور معجم کبیر کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15190]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے لفظ ”آسیہ“ نقل کیا ہے، اور معجم کبیر کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15190]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12179)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15191
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي، فَاسْتَأْذَنَ اللَّهَ فِي زِيَارَتِي، فَبَشَّرَنِي - أَوْ أَخْبَرَنِي - أَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أُمَّتِي". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الذُّهْلِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”آسمان سے ایک فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مجھ سے ملنے کی اجازت مانگی اور اس نے مجھے خوشخبری دیتے ہوئے یہ بتایا: فاطمہ میری امت کی خواتین کی سردار ہو گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف محمد بن مروان ذہلی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15191]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف محمد بن مروان ذہلی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15191]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15192
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ:" أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَابْنَاكِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کی خواتین کی سردار ہو جاؤ اور تمہارے دونوں بیٹے اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15192]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15192]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2650)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15193
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ فَاطِمَةَ غَيْرَ أَبِيهَا. قَالَتْ: وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلْهَا فَإِنَّهَا لَا تَكْذِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ أَصْدَقُ مِنْ فَاطِمَةَ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے فاطمہ سے زیادہ فضیلت والا کوئی نہیں دیکھا، صرف ان کے والد کا معاملہ مختلف ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی معاملہ ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لیں وہ غلط بیانی نہیں کرتی ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کبھی کوئی نہیں دیکھا“۔ ان دونوں روایات کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15193]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کبھی کوئی نہیں دیکھا“۔ ان دونوں روایات کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15193]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4700)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15194
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا، وَهِيَ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنِّي وَمِنْ أَبِي - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا -. فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ، [ فَدَخَلَ ] فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا بِنْتَ فُلَانَةَ، لَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ ذِكْرِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے باہر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی بلند آواز سنی جو یہ کہہ رہی تھیں: اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتی ہوں کہ علی اور فاطمہ آپ کے نزدیک مجھ سے اور میرے والد سے زیادہ محبوب ہیں۔ یہ بات انہوں نے دو یا تین مرتبہ کہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، وہ اندر آئے تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور بولے: اے فلانی کی بیٹی آئندہ میں تمہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرتے ہوئے نہ سنوں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15194]
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15194]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (275/4)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15195
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَهُمَا يَضْحَكَانِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتَا، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا لَكَمَا، كُنْتُمَا تَضْحَكَانِ فَلَمَّا رَأَيْتُمَانِي سَكَتُّمَا؟". فَبَادَرَتْ فَاطِمَةُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ هَذَا: أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكِ، فَقُلْتُ: بَلْ أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكَ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ:" يَا بُنَيَّةُ، لَكِ رِقَّةُ الْوَلَدِ، وَعَلِيٌّ أَعِزُّ عَلَيَّ مِنْكِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے۔ وہ دونوں ہنس رہے تھے جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے تم لوگ پہلے ہنس رہے تھے جب تم دونوں نے مجھے دیکھا تو تم دونوں خاموش ہو گئے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بات میں پہل کی اور عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد آپ پر قربان ہوں، ان کا (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا) یہ کہنا ہے کہ میں تم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں اور میرا یہ کہنا ہے کہ بلکہ میں اللہ کے رسول کی آپ سے زیادہ محبوب ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے فرمایا: اے میری بیٹی! تمہارے لیے وہ محبت ہے، جو اولاد کے لئے ہوتی ہے، اور علی میرے نزدیک تم سے زیادہ قابل احترام ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15195]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15195]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11063)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15196
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ أَحَبُ إِلَيْكَ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ؟ قَالَ:" فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا". قُلْتُ: فَذَكَرَهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ کے نزد یک زیادہ محبوب ہوں یا فاطمہ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15196]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15196]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (400/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15197
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ فَاطِمَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَفْعَلُهُ مِنْ قَبْلُ، قَالَ لِي:" يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَوَقَفْتُ عَلَى شَجَرَةٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ، لَمْ أَرَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا حُسْنًا، وَلَا أَبْيَضُ مِنْهَا وَرَقَةً، وَلَا أَطْيَبُ مِنْهَا ثَمَرَةً، فَتَنَاوَلْتُ ثَمَرَةً مِنْ ثَمَرَتِهَا فَأَكَلْتُهَا، فَصَارَتْ نُطْفَةً فِي صُلْبِي، فَلَمَّا هَبَطْتُ إِلَى الْأَرْضِ وَاقَعْتُ خَدِيجَةَ، فَحَمَلَتْ بِفَاطِمَةَ، فَإِذَا أَنَا اشْتَقْتُ إِلَى رَائِحَةِ الْجَنَّةِ شَمَمْتُ رِيحَ فَاطِمَةَ. يَا حُمَيْرَاءُ، إِنَّ فَاطِمَةَ لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ، وَلَا تَعْتَلُّ كَمَا يَعْتَلُّونَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ: كَانَ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ، وَأَنْكَرَ عَلَى مَنْ نَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَتْرُوكٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا، وَقَدْ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ فِي الْمِيزَانِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی تھی کہ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بوسہ دیا کرتے تھے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں کہ آپ کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ آپ پہلے ایسا کرتے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے حمیراء! جس رات مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی مجھے جنت میں داخل کیا گیا۔ میں وہاں ایک درخت کے پاس ٹھہرا، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت اور اس سے زیادہ سفید درخت جنت میں کوئی نہیں دیکھا، جس کے پھل اس سے زیادہ پاکیزہ ہوں۔ میں نے اس کا ایک پھل لیا اور اسے کھا لیا تو وہ میری پشت میں نطفہ بن گیا، جب میں زمین پہ آیا تو میں نے خدیجہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا، تو وہ اس کے حوالے سے حاملہ ہو گئی، تو جب میں جنت کی خوشبو سونگھنے کا مشتاق ہوتا ہوں، تو میں فاطمہ کی خوشبو کو سونگھ لیتا ہوں۔ اے حمیرا! فاطمہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہے، اور وہ اس طرح علت کا شکار نہیں ہوئی، جس طرح لوگ علت کا شکار ہوتے ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ سچائی کے بارے میں کوشش کرتا رہتا تھا امام أحمد نے اس کا انکار کیا ہے کہ جس نے اس کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے بعض نے کہا: ہے: یہ متروک ہے۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں یہ حدیث کتاب میزان الاعتدال میں اس راوی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15197]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ سچائی کے بارے میں کوشش کرتا رہتا تھا امام أحمد نے اس کا انکار کیا ہے کہ جس نے اس کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے بعض نے کہا: ہے: یہ متروک ہے۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں یہ حدیث کتاب میزان الاعتدال میں اس راوی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15197]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15198
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -:" إِنَّ اللَّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلَا وَلَدِكِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں، اور تمہاری اولاد کو عذاب نہیں دے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15198]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15198]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11685)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح