مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. بَابُ حَدِيثِ الْإِفْكِ
واقعہ افک کا بیان
حدیث نمبر: 15305
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ حَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ شَتَمُوا عَائِشَةَ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، فَيَسْتَوْهِبُ رَبِّي الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ، فَأَسْتَأْمِرُكِ يَا عَائِشَةُ". فَسَمِعَتْ عَائِشَةُ الْكَلَامَ فَبَكَتْ وَهِيَ فِي الْبَيْتِ، وَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، لَسُرُورُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سُرُورِي، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا، وَقَالَ:" ابْنَةُ أَبِيهَا". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ طُرُقٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہو گا، تو اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے عائشہ پر الزام لگانے والوں پر حد لگاتے ہوئے اسّی اسّی کوڑے لگوائے گا، ان میں سے جو مہاجرین ہیں ان کے حوالے سے میرا پروردگار ہبہ کرنے کا کہے گا: اے عائشہ! تو میں تم سے مرضی معلوم کروں گا، راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ بات سنی تو وہ رونے لگیں، حالانکہ وہ گھر میں موجود تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے! آپ کا خوش ہونا میرے نزدیک اپنی خوشی سے زیادہ پسندیدہ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے مسکرا دیے اور فرمایا: یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون ابوعلقمہ فروی ہے اور وہ ضعیف ہے، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15305]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون ابوعلقمہ فروی ہے اور وہ ضعیف ہے، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15305]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (163/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف