مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. بَابٌ فِي سَلَّامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15439
عَنْ سَلَّامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ وَأَنَا أَرْعَى، فَقَالَ:" يَا سَلَّامَةُ، بِمَا تَشْهَدِينَ؟". قُلْتُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُمُّ دَاوُدَ الْوَابِشِيَّةُ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابتداء اسلام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں بکریاں چرا رہی تھی، آپ نے فرمایا: اے سلامہ! تم کس چیز کی گواہی دیتی ہو؟ میں نے عرض کی: میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اُم داؤد وابشیہ ہیں اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15439]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اُم داؤد وابشیہ ہیں اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15439]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف