مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ، وَغَيْرِ ذَلِكَ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
حدیث نمبر: 15515
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مِنْكَبِي - شَكَّ سَعِيدٌ - ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ:" وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ، وَالطَّبَرَانِيِّ:" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ".
وَلِأَحْمَدَ طَرِيقَانِ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ:" وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ، وَالطَّبَرَانِيِّ:" اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ".
وَلِأَحْمَدَ طَرِيقَانِ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا۔ (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں:) - میرے کندھے پر رکھا۔ (یہ شک سعید نامی راوی کو ہے، یعنی اس میں کندھے کے لئے استعمال ہونے والا لفظ مختلف ہے)۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے۔“
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اور تو اسے تفسیر کا علم عطا کر دے!“ . یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: ”اے اللہ! تو اسے قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر دے!“۔ امام أحمد کی روایت کے دو طریق ہیں اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15515]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت ”صحیح“ میں مذکور ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اور تو اسے تفسیر کا علم عطا کر دے!“ . یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: ”اے اللہ! تو اسے قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر دے!“۔ امام أحمد کی روایت کے دو طریق ہیں اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15515]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (2397)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15516
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" نِعْمَ تُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ أَنْتَ". وَدَعَا لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَرَّتَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دی اور ارشاد فرمایا: تم قرآن کے اچھے ترجمان ہو! سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بھی مجھے دو مرتبہ دعا دی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15516]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15516]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11108)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15517
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعْطِ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَوَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ بَرْدَهَا فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ احْشُ جَوْفَهُ عِلْمًا وَحِلْمًا". فَلَمْ يَسْتَوْحِشْ فِي نَفْسِهِ إِلَى مَسْأَلَةِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَمْ يَزَلْ حَبْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سر پر رکھا اور یہ دعا کی: اے اللہ! تو اسے حکمت عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے میں محسوس کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! اس کے پیٹ کو (یعنی سینے کو) علم اور بردباری سے بھر دے! راوی بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کسی بھی شخص سے، کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے الجھن محسوس نہیں ہوئی، اور وہ مسلسل اس اُمت کے بڑے عالم رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دیدی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15517]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15517]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10585)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15518
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ أَبِي: أَيْ بُنَيَّ، أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكِ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ. قَالَ: فَرُحْنَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ، فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اور شخص موجود تھا، جو آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے والد کی طرف توجہ نہیں دی، جب ہم آپ کے پاس سے نکلے، تو میرے والد نے کہا: اے میرے بیٹے! کیا تم نے اپنے چچازاد کو دیکھا نہیں؟ وہ گویا مجھ سے اعراض کر رہے تھے، میں نے کہا: ابا جان! ان کے پاس ایک شخص موجود تھا، جس کے ساتھ وہ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر بعد میں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو میرے والد نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے یہ یہ بات کہی تھی، تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس ایک فرد موجود تھا، جو آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی موجود تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے عبداللہ! کیا تم نے اُس کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھا، اور اسی کی وجہ سے میں آپ لوگوں کی طرف توجہ نہیں دے سکا۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15518]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15518]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10584) اخرجه احمد فى المسند (2679)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15519
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ، وَهُوَ يُنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيَّ، وَهُوَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنَا لَا أَعْلَمُ، فَلَمْ أُسَلِّمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا ابْنُ عَمِّي، هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ". قَالَ: مَا أَشَدَّ وَضْحَ ثِيَابِهِ، أَمَا إِنَّ ذُرِّيَّتُهُ سَتُسَوِّدُ بَعْدَهُ، لَوْ سَلَّمَ عَلَيْنَا رَدَدْنَا عَلَيْهِ. فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ؟". قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ تَنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَنْقَطِعَ عَلَيْكُمَا مُنَاجَاتُكُمَا. قَالَ:" وَقَدْ رَأَيْتَ؟". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ سَيَذْهَبُ بَصَرُكَ، وَيُرَدُّ عَلَيْكَ فِي مَوْتِكَ".
قَالَ عِكْرِمَةُ: فَلَمَّا قُبِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، جَاءَ طَائِرٌ شَدِيدُ الْوَهَجِ، فَدَخَلَ فِي أَكْفَانِهِ، فَأَرَادُوا نَشْرَ أَكْفَانَهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: مَا تَصْنَعُونَ؟ هَذِهِ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي قَالَ لَهُ، فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ، تُلُقِّيَ بِكَلِمَةٍ سَمِعَهَا مَنْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ: (يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
قَالَ عِكْرِمَةُ: فَلَمَّا قُبِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ، جَاءَ طَائِرٌ شَدِيدُ الْوَهَجِ، فَدَخَلَ فِي أَكْفَانِهِ، فَأَرَادُوا نَشْرَ أَكْفَانَهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: مَا تَصْنَعُونَ؟ هَذِهِ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي قَالَ لَهُ، فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ، تُلُقِّيَ بِكَلِمَةٍ سَمِعَهَا مَنْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ: (يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، میرے جسم پر سفید لباس تھا، اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، وہ دراصل سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے، مجھے اس بات کا علم نہیں تھا، میں نے سلام نہیں کیا، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! یہ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: یہ میرا چچا زاد ہے، یہ ابن عباس ہے، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اس نے کتنے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں، لیکن اس کے بعد اس کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی، اگر یہ ہمیں سلام کرتا، تو ہم نے اسے جواب دینا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: اے ابن عباس! تم نے سلام کیوں نہیں کیا؟ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے دیکھا کہ آپ سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے ہیں، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی بات چیت میں دخل دوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اُسے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بینائی رخصت ہو جائے گی اور پھر تمہارے مرنے پر، وہ تمہیں لوٹائی جائے گی۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا اور ان کی میت تختے پر رکھی ہوئی تھی، تو ایک انتہائی سفید رنگ کا پرندہ آیا اور ان کے کفن میں داخل ہو گیا۔ لوگوں نے یہ ارادہ کیا کہ ان کا کفن کھول دیں، تو عکرمہ نے کہا: تم لوگ کیا کرنے لگے ہو؟ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ خوشخبری ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمائی تھی، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی میت کو لحد میں رکھا گیا، تو اسی دوران قبر کے کنارے پر موجود افراد نے کسی کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: ”اسے مطمئن جان! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15519]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15519]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10586)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15520
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ الْعَبَّاسُ بِعَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ رَجُلًا فَرَجَعَ وَلَمْ يُكَلِّمْهُ، فَقَالَ:" رَأَيْتَهُ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ، أَمَا إِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَذْهَبَ بَصَرُهُ، وَيُؤْتَى عِلْمًا". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو موجود پایا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات کئے بغیر واپس چلے گئے، بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا: کیا تم نے اس کو دیکھا تھا؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھا اور یہ (یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) اس وقت تک نہیں مرے گا، جب تک اس کی بینائی رخصت نہیں ہو جاتی، اور اسے علم دیا جائے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15520]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15520]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15521
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُمْ كَثِيرٌ، فَقَالَ: الْعَجَبُ وَاللَّهِ لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مَنْ تَرَى مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَرَكِبْتُ ذَلِكَ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ، وَتَتَبُّعِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ فِي الْحَدِيثِ يَبْلُغُنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجِدُهُ قَائِلًا، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِ دَارِهِ تَسْقِي الرِّيَاحُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيَّ، فَإِذَا رَآنِي قَالَ: يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَكَ؟. قُلْتُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، فَيَقُولُ: هَلَّا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيكَ، فَأَقُولُ: أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ آتِيَكَ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَرَانِي، فَذَهَبَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيَّ، فَيَقُولُ: أَنْتَ كُنْتَ أَعْلَمَ مِنِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو میں نے ایک شخص سے کہا: آؤ! تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے علم حاصل کریں، اُن سے سوالات کریں کیونکہ اس وقت ان کی تعداد کافی زیادہ ہے، تو اُس شخص نے کہا: اے ابن عباس! اللہ کی قسم! تم پر حیرانگی ہوتی ہے، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تم سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئے گی؟ جبکہ لوگوں کے درمیان تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے رسول کے اصحاب موجود ہیں۔ پھر میں سوار ہو کر گیا اور سوالات کرنے لگا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پیچھے جانے لگا، بعض اوقات میں کسی حدیث کے سلسلے میں کسی صحابی کے پیچھے جاتا تھا، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلتا تھا کہ انہوں نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہے، تو میں انہیں پاتا تھا کہ وہ آرام کر رہے ہوتے تھے، میں اُن کے گھر کے دروازے پر چادر کا تکیہ بنا کر موجود رہتا تھا، ہوا میرے اوپر گرد و غبار ڈال دیتی تھی، یہاں تک کہ وہ صاحب خود نکل کر باہر آتے اور جب مجھے دیکھتے تو یہ کہتے: اے اللہ کے رسول کے چچا زاد! آپ کو کیا کام ہے؟ میں جواب دیتا: ایک حدیث کے بارے میں پتہ کرنا تھا، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلا تھا کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ حدیث میں خود آپ سے سن لوں، تو وہ صاحب کہتے: آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں بھیجا؟ میں آپ کے پاس خود آ جاتا، تو میں ان صاحب کو جواب دیتا: میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ میں آپ کے پاس آتا، پھر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رخصت ہو گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پیش آئی تو میرے اُس ساتھی نے مجھے ایسی حالت میں دیکھا، تو وہ یہ بولا: تم مجھ سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15521]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15521]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10592)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15522
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: جَالَسْتُ سَبْعِينَ أَوْ ثَمَانِينَ شَيْخًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَحَدٌ مِنْهُمْ خَالَفَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيَلْتَقِيَانِ إِلَّا قَالَ: الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ، أَوْ قَالَ: صَدَقْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالملک بن میسرہ نے طاؤس کا یہ بیان نقل کیا ہے: میں 70 (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) میں 80 بزرگ صحابہ کرام کے پاس بیٹھا ہوں، ان میں سے کوئی ایک بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے برخلاف رائے نہیں دیتا تھا، جب وہ دونوں ملتے تھے تو وہ دوسرے صاحب یہی کہتے تھے: قول وہی ہے جو آپ نے کہا: ہے، یا وہ یہ کہتے تھے: آپ نے سچ کہا: ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15522]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15522]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10593)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15523
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَنْزِلَةٍ. قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُولِ، إِنَّ لَهُ لِسَانًا سَئُولًا، وَقَلْبًا عَقُولًا، كَانَ يَقُومُ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ: عَشِيَّةَ عَرَفَةَ - فَيَقْرَأُ (سُورَةَ الْبَقَرَةِ) وَ سُورَةَ (آلَ عِمْرَانَ) ثُمَّ يُفَسِّرُهُمَا آيَةً آيَةً، وَكَانَ مَثَجَّةً نَجْدًا غَرْبًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ.
بکر ہذلی بیان کرتے ہیں: میں حسن کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو قرآن کے حوالے سے ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے، تو انہوں نے بتایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے: یہ نوجوان عمر رسیدہ افراد کی مانند ہے، اس کے پاس ایسی زبان ہے جو سوال کرنے والی ہے، اور ایسا دل ہے جو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے، یہ عرفہ کی شام ہمارے اس منبر پر کھڑا ہوتا، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تلاوت کرتا اور پھر ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کرتا چلا جاتا، وہ (علم کا) چھلکتا ہوا، بھرا ہوا ڈول ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر ہذلی نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15523]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر ہذلی نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15523]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10620)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15524
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ هِرَقْلَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: إِنْ كَانَ بَقِيَ فِيهِمْ مِنَ النُّبُوَّةِ فَيُجِيبُونِي عَمَّا أَسْأَلُهُمْ عَنْهُ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَجَرَّةِ، وَعَنِ الْقَوْسِ، وَعَنِ الْبُقْعَةِ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً.
قَالَ: فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ: إِنَّ هَذَا شَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أُسْأَلُ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ الْكِتَابَ - كِتَابَ هِرَقْلَ - فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ: فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قَالَ: فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ: إِنَّ هَذَا شَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أُسْأَلُ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ الْكِتَابَ - كِتَابَ هِرَقْلَ - فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ: فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہرقل نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور یہ کہا: اگر ان لوگوں کے درمیان نبوت میں کوئی باقی ہوا، تو وہ مجھے اس چیز کے بارے میں جواب دیں گے، جس کے بارے میں، میں نے اُن سے سوال کیا ہے، ہرقل نے انھیں خط لکھ کر اُن سے مجرہ (شاید کہکشاں مراد ہے)، قوس اور زمین کے اس خطے کے بارے میں دریافت کیا، جسے صرف ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی، راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ مکتوب اور قاصد، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا کہ مجھ سے اس بارے میں بھی دریافت کیا جائے گا، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہرقل کا مکتوب لپیٹا اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھجوا دیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جوابی خط میں لکھا: ”قوس اہل زمین کے لیے ڈوبنے سے امان ہے، اور مجرہ آسمان کا دروازہ ہے جس کو کھولا جاتا ہے، جہاں تک زمین کے اس حصے کا تعلق ہے جسے دن کی ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی، تو وہ دریا کا وہ حصہ ہے، جس کو بنی اسرائیل کے لئے کشادہ کیا گیا تھا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15524]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15524]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10591)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح