مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
162. بَابٌ مِنْهُ فِيهِ وَفِي إِخْوَتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائیوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15537
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ، وَكَثِيرًا بَنِي الْعَبَّاسِ، وَيَقُولُ:" مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا". فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ، فَيَلْتَزِمُهُمْ وَيُقَبِّلُهُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کے صاحبزادوں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا کثیر رضی اللہ عنہ کو صف میں کھڑا کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے: جو مجھ تک پہلے پہنچے گا، اُسے یہ یہ ملے گا، تو وہ بچے دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت اور سینے پر گر جاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ لپٹا لیتے تھے اور انھیں چومتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15537]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15537]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (1836)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔