🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

164. بَابٌ فِي أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، جو نبی اکرم ﷺ کے محبوب ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15542
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ النَّاسُ فِيهِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ بَلَغَنِي مَا قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ، وَلَقَدْ قُلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ قَبْلَهُ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ، وَإِنَّهُ أَتَى حِبُّ النَّاسِ إِلَيَّ".
قَالَ:مَنِ اسْتَثْنَى فَاطِمَةَ وَغَيْرَهَا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم کا امیر مقرر کیا، تو کچھ لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے اسامہ کے بارے میں بات کی ہے، اس سے پہلے تم لوگ اس کے باپ کے بارے میں بھی بات کر چکے ہو، وہ امیر بننے کے لائق ہے، وہ امیر بننے کے لائق ہے، وہ امیر بننے کے لائق ہے اور وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعض حضرات نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کا استثناء کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15542]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5518)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15543
وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ كُلِّهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: حَاشَا فَاطِمَةَ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے تھے: البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ مختلف ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15543]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5462)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15544
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُبْغِضَ أُسَامَةَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھے، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، اُسے اسامہ سے محبت رکھنی چاہیے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15544]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (156/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15545
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ قَالَ: سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابوبکر بن شعیب بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے مشائخ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی میں یہ نقش تھا: اللہ کے رسول کے محبوب۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15545]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (374)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15546
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يُدْعَى بِالْأَمِيرِ حَتَّى مَاتَ، يَقُولُونَ: بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ لَمْ يَنْزِعْهُ حَتَّى مَاتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان کے انتقال تک امیر کہہ کر بلایا جاتا تھا، لوگ یہ کہتے تھے: کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (امیر) بنا کر بھیجا تھا اور پھر انھیں اُس عہدے سے الگ نہیں کیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15546]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (371)»

الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں