مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
187. بَابُ فَضْلِ أَبِي طَلْحَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 15728
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ أَشُدُّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْ فِئَةٍ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مشرکین کے لئے، ابوطلحہ کی آواز ایک گروہ سے زیادہ سخت ہے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15728]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (203/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15729
وَفِي رِوَايَةٍ:" لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”لشکر میں ابوطلحہ کی آواز ایک گروہ سے زیادہ بہتر ہے۔“
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15729]
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15729]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3983) اخرجه احمد فى المسند (261/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15730
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةَ، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا فَقَالَ: أَلَّا أَرَى رَبِّي يَسْتَنْفِرُنِي [شَابًّا وَشَيْخًا جَهَّزُونِي، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ: قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قُبِضَ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ فَنَحْنُ نَغْزُوا عَنْكَ. فَقَالَ: جَهِّزُونِي، فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورت توبہ کی تلاوت کی، جب وہ اس مقام پر پہنچے: ”ہلکے یا بوجھل ہونے کے عالم میں نکل کھڑے ہو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یہ دیکھ رہا ہوں، میرے پروردگار نے مجھے یہ حکم دیا ہے، میں نکل کھڑا ہوؤں، خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں، تو تم لوگ مجھے سامان سفر تیار کر کے دو! ان کے بیٹوں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے رہے، اور اب ہم آپ کی جگہ جنگ میں حصہ لے لیں گے، انہوں نے فرمایا: تم لوگ مجھے سامان فراہم کرو! پھر وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، اور اس دوران ان کا انتقال ہو گیا ہے، لوگوں کو ان کو دفن کرنے کے لئے کوئی جزیرہ نہیں ملا، ایسا جزیرہ سات دن بعد ملا، لیکن اس دوران ان کی میت خراب نہیں ہوئی۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15730]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15730]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3413)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15731
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: خَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ غَازِيًا فِي الْبَحْرِ، فَمَاتَ فِي السَّفِينَةِ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ، فَانْتَظَرُوا بِهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ حَتَّى وَجَدُوا لَهُ بَعْدَ سَبْعٍ مَكَانًا يَدْفِنُونَهُ فِيهِ، وَلَمْ يَتَغَيَّرْ كَمَا هُوَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سمندری جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے ان کا کشتی میں انتقال ہو گیا، ان لوگوں کو انہیں دفن کرنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملی، تو وہ چھ دن تک انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ سات دن بعد انہیں ایک جگہ ملی، جہاں ان لوگوں نے انہیں دفن کیا، تو اس دوران ان کا جسم خراب نہیں ہوا، بلکہ ویسے ہی رہا جیسے تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15731]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15731]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4683)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15732
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو طَلْحَةَ: زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَسِنُّهُ سَبْعُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ کا انتقال چونتیس ہجری میں ہوا تھا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، اس وقت ان کی عمر ستر سال تھی اور ان کا نام سیدنا زید بن سہل رضی اللہ عنہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15732]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15732]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4684)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15733
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ أَبُو طَلْحَةَ زَيْدُ بْنُ سَهْلٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ،، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ سَنَةً، وَقِيلَ: إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ مَاتَ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ مِنِ ابْنِ نُمَيْرٍ.
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ کا انتقال چونتیس ہجری میں ہوا تھا، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی، انتقال کے وقت ان کی عمر ستر برس کے لگ بھگ تھی، ایک قول کے مطابق سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال بتیس ہجری میں ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ابن نمیر سے منقول ہونے کے حوالے سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15733]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ابن نمیر سے منقول ہونے کے حوالے سے منقطع ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15733]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4685)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع